fbpx

یوم دفاع وطن۔۔ایک فکر تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

پانچ ستمبر کی شام ہم یوم دفاع پاکستان کی تیاریوں میں مصروف تھے میری ہمیشہ سے عادت رہی ہے کہ چودہ اگست یوم آزادی اور اس کے بعد چھ ستمبر کو یوم دفاع بہت دھوم دھام سے منایا کرتا تھا اس زمانے میں یوم دفاع وطن بہت شایان شان طریقہ سے منائ جاتی تھی اپنے فوجی بھائیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا تھا۔غالبا اس وقت میں پرائمری کا طالب علم تھا.محلے کے تمام ہم عمر دوست تین دن پہلے سے اس کی تیاری کے لئےچندہ جمع کرنا شروع کر دیتے تھے اور پھر وہ پیسے ہم اپنے محلے کے ایک بزرگ واحد خان صاحب جنکو پورا محلہ تایا ابو کہتا تھا کو دے دیا کرتے تھے کیونکہ تایا ابو ہی ہماری یوم دفاع کی تیاری کے روح رواں تھے گو کہ ہمیں اندازہ تھا کہ ہمارے چندے کی رقم کی حیثیت بس علامتی سی ہی ہوتی تھی کیونکہ اس دن اخراجات بہت ہوتے تھے اور وہ سب تایا ابو ہی برداشت کرتے تھے۔۔دھاگے آتے تھے۔۔ جھنڈیاں آتی تھیں۔۔ پھر تایا کے گھر میں اسے چپکانے کے لئے "لئ”بنائ جاتی تھی۔۔ پھر رات کے وقت دھاگے باندھ کر اس پر جھنڈیاں چپکائ جاتی تھیں اور ان جھنڈیوں سے پورے محلے کو سجایا جاتا تھا اس کے علاوہ چھوٹے پرچم ہر گھر پر لہرائے جاتے تھے ۔۔۔سر شام ہی لاوڈ اسپیکر لگ جاتا تھا جس پر تیز آواز میں ملی ترانے بجائے جاتے تھے ۔۔اس کے علاوہ دوسرے دن صبح کے لئے اسٹیج تیار کیا جاتا تھا ۔۔کیونکہ صبح محلے کے بچوں کے درمیان ملی نغمے اور تقاریر کا مقابلہ منعقد ہونا ہوتا تھا۔۔ اسٹیج کے سامنے دریاں بچھائ جاتی تھیں اور کچھ کرسیاں محلے کے معززین کے لئے رکھی جاتی تھیں۔۔ اوراس تمام تر تقریب کی نگرانی تایا ابو ہی کرتے تھے ۔۔ہم صبح صبح اپنے اسکاوٹ کی وردی پہن کر تیار ہوتے تھے اور اپنے کو بالکل فوجی ہی سمجھتے تھے پھر ہم تقریب کا حصہ بن جایا کرتے تھے۔۔
ہوا کچھ یوں کہ دھاگے میں جھنڈیاں لگاتے لگاتے اچانک "لئ”ختم ہو گئ تو میں "لئ”لینے تایا ابو کے گھر چلا گیا۔۔
جیسے ہی ان کی بیٹھک میں داخل ہوا تو دیکھتا ہوں کہ تایا ابو کے والد صاحب جنہیں پورا محلہ دادا ابو کہتا تھا جو کم از کم بھی نوے سال کی عمر کے تو ہونگے۔۔بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو رہے ہیں.۔میں دادا ابو کے اس انداز میں رونے پر ششدر رہ گیا۔۔۔ مجھے تشویش ہوئ کہ دادا ابو کس وجہ سے رو رہے ہیں؟۔۔۔کل ہم یوم دفاع پاکستان منانے جا رہے ہیں اور وہ ہیں کہ روئے جارہے ہیں۔۔۔ ان کو تو خوش ہونا چاہیے مجھے لگا شاید ان کی طبیعت خراب ہوگئ ہے ۔۔۔میں دادا ابو کے ساتھ بیٹھ گیا اور ان کے ہاتھ دباتے ہوئے پوچھا کہ دادا ابو خیریت تو ہے؟۔۔آپ کیوں رو رہے ہیں؟ یہ سن کے تو انہوں نے اور دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کر دیا اور ان کے ساتھ ان کے برابر بیٹھے ہوئے تایا ابو بھی رو رہے تھے۔۔۔ اب تو میں اور پریشان ہو گیا اور دادا ابو کا ہاتھ پکڑ کر تقریبا چیختے ہوئے کہا کہ دادا ابو خدا کے لئے مجھے بتائیں آخر ہوا کیا ہے؟؟؟پھر قدرے توقف سے دادا ابو گویا ہوئے کہ۔۔۔ "بیٹاجب پاکستان بنا اس وقت میں جوان تھا.۔۔ہمارا بڑا خوش حال گھرانہ تھا یہ واحد کےدادا سید عبد الکریم خان کا گھرانہ تھا سب سے زیادہ پردے والا گھرانہ تھا.۔۔ہمارے گھر کی خواتین رات کے اندھیرے میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتیں اور صبح سورج کے طلوع ہونے سے پہلے پہلے واپس ان کو گھر لایا جاتا تھا کہ کوئی ان کو دیکھ نہ لے.۔۔جب آزادی اور علیحدگی کا اعلان کیا گیا تو واحد کےدادا نے گھر کی سب خواتین کو بلایا اور کہنے لگے کہ آج فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے.۔۔
کچھ ہی دیر میں ہندو یہاں تم سب کو ہمارے سامنے برہنہ کریں گے اور تمہاری عزتوں کو ہمارے سامنے ہی پامال کرنا شروع کر دیں گے۔۔۔کیا کیا جائے؟۔۔ابا گلوگیر آواز میں کہے جارہے تھے اور خواتین پریشانی کی حالت میں ان کی باتیں سن رہی تھیں۔۔۔ ابا جی نے اپنی بات ختم کر کے سوالیہ نظروں سے سب کی طرف دیکھا توگھر کی سب خواتین نے بیک وقت یک زبان ہوکے ابا سے کہا کہ ہم نے تو آج تک کسی غیر مرد کو اپنا چہرہ تک نہیں دکھایا تو ہم آپ سب کے سامنے اپنی عزت کی پامالی کیسے برداشت کر سکتے ہیں.۔۔
پھر وہاں فیصلہ ہو گیا کہ اس نیلامی سے اچھا ہے کہ عزت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہو جایا جائے۔۔۔بڑے خان صاحب ایک تیز دھار چاقو اور پھٹہ لے کر بیٹھ گئے اور گھر کی خواتین باری باری آ کر اللہ اکبر کی تکبیر کے ساتھ عزت سے قربان ہوتی گئیں.۔۔(دادا ابو روئے جارہے تھے اور بتائے جارہے تھے)۔۔جب بڑےخان صاحب کی والدہ کا نمبر آیا تو بیٹا !!واحد کے دادا کے ہاتھ کانپنے لگے اور ہمت جواب دینے لگی…اور وہ اپنی اماں سے کہتے ہیں کہ”ماں جی آپ پر یہ چاقو نہیں چل سکتا”.
(اور پتہ ہے ابا جی کو ان کی اماں نے کیا جواب دیا؟؟) ..انہوں نے کہا کہ بیٹا یاد کر… سوچ وہ وقت جب ہندو تیری ماں کی عزت کو نیلام کریں گے؟ تو پھر کیا ہو گا؟؟۔۔یہ کہ کرماں جی نے اپنے بیٹے کی آنکھوں پر خودپٹی باندھ دی۔۔۔ پھر بڑے خان صاحب نے اپنے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ اپنی ماں کا گلا کاٹ کر عزت محفوظ کر دی.۔۔(اور یہ کہتے ہی دادا اور تایا زاروقطار رونے لگے) اور اب تو میرے آنسو بھی تھم نہیں پارہے تھے۔۔۔بحر کیف کچھ دیر اسی طرح گزری اور دادا ابو دوبارہ مخاطب ہوئے کہ بیٹااس طرح اس دن ہمارے گھر کی چالیس خواتین ذبح ہو گئیں مگر اپنی عزت پر آنچ گوارہ نہیں کی.۔۔دادا ابو کہنے لگے کہ خواتین اپنی مرضی سے آگے بڑھ رہی تھیں تاکہ ان کی عزت محفوظ رہ جائے.۔۔ دادا ابو کہنے لگے کہ بیٹا اس دن کا یہ سارا منظر میری آنکھوں کے سامنے منڈلانے لگتا ہے اور میں خون کے آنسو روتا ہوں.۔۔میں نے پوچھا کہ دادا ابو آپ کی کوئی بہن نہیں تھی کیا؟۔۔کہنے لگے ہاں ہماری ایک بہن تھی.۔۔ پاکستان بننے کے وقت اس کی عمر سات سال تھی.۔۔میرا ایک چھوٹا بھائی اور یہ بہن ایک دوسری جگہ چھپے ہوئے تھے کہ وہاں اچانک سکھ پہنچ گئے.۔۔ یہ دونوں ایک کونے میں دبک گئے۔۔۔ سکھوں کے جانے کا انتظار کرنے لگے لیکن بدقسمتی سےمیری بہن کو شدید پیاس لگنے لگی۔۔۔ سامنے ہی پانی کا مٹکا رکھا تھا.۔۔چھوٹا بھائی بہن کو تسلی دیتا رہا کہ سکھ چلے جائیں پھر پانی دیتا ہوں۔۔۔ پروہ چھوٹی تھی پیاس برداشت نہیں کر سکی اور وہ پیچھے سے نکل کر مٹکے تک چلی گئی۔.۔پانی کا پیالہ ابھی اس کے لبوں کے قریب ہی پہنچا تھا کہ ایک سکھ نے اس کا سر اس کے دھڑ سے الگ کر دیا۔۔(یہ سن کر ایک دم دم سناٹا ہو گیا اور میرے آنسو رکنے کا نام نہ۔لیتے تھے) میں نے روتے ہوئے ہی دادا سے پوچھا کہ آپ سب لوگ الگ الگ کیوں رہتے تھے؟۔۔۔
دادا ابو کہنے لگے کہ بھگ دڑ مچی ہوئ تھی بھائ !!! جو جہاں تھا وہ وہیں سے روانہ ہو گیا.۔۔جو کھیت میں کام کر رہے تھے وہ وہاں سے ہی پاکستان والی سرزمین کی جانب روانہ ہوئے.۔۔سب ایک دوسرے سے بچھڑ گئے تھے.۔۔ کوئی کچھ دن بعد مل گیا تھا۔۔۔ تو کوئی کئ کئ سالوں بعد۔۔ تو کسی کی خبر آج تک نہیں کہ زندہ بھی ہے یا نہیں.۔۔بیٹا!! اس وقت ٹرینوں میں مسلمانوں یا انسانوں کی جگہ لاشیں سفر کر رہی تھیں.۔ کنویں پانی نہیں دے رہے تھے بلکہ زہر دے رہے تھے اور سورج روشنی کی جگہ آگ اگل رہا تھا.۔۔ بہت برا وقت تھا۔۔۔جگہ جگہ لاشوں کے ڈھیر پڑے تھے.۔۔
کیا بچہ، کیا بوڑھا، کیا جوان کیا مرد اور کیا عورت.۔۔بڑے بڑے زمیں دار خالی ہاتھ تھے.۔۔
کھانے کو کچھ تھا نہ ہی پینے کو پانی میسر تھا.۔۔پانی سامنے ہوتے ہوئے بھی نہیں پی سکتے تھے۔۔۔ جگہ جگہ پانی میں زہر ملا دیا گیا تھا تا کہ جب مسلمان یہاں سے گزریں تو زندہ نہ بچ سکیں۔۔۔تلواریں اور تیر جگہ جگہ انسانوں کو کچل رہے تھے.۔۔
یہ آزادی تو تمہارے لئے تھی۔۔۔ ہمارے لئے تو قربانیاں اور جنازے تھے۔۔۔اپنوں سے دوری تھی.۔۔ اپنے آبائی علاقے چھوڑنے کے دکھ کے ساتھ ساتھ اپنوں کے بچھڑنے کا غم بھی تھا.۔۔جن ہیں اہنے ہی سامنے کٹتا ہوا دیکھا تھا۔۔۔مگر یہ سب کچھ ہم نے آنے والی نسلوں کی آزادی اور کامیابی کی خاطر قربان کیا تھا.۔۔مگر آج تم آزاد ہو کر بھی آزاد نہیں ہو.۔۔
یہ وطن تو ہم نے اسلام کا جھنڈا لہرانے کیلئے حاصل کیا تھا….
مگر آج اسی وطن میں اسی جھنڈے کے نیچے اسلام فروخت نہیں ہو رہا ہے کیا؟۔۔کیایہ وطن اس لئےحاصل کیا گیا تھا کہ ہماری آنے والی نسلوں کی رگوں میں ہندو رسم و رواج کا خون دوڑے۔۔ کیا آج الگ وطن ہو کر بھی تمہارے اندر یہ ہی رسم و رواج اور تربیت پروان نہیں چڑھ رہی ہے؟؟
وہاں ہندو مسلمان کا دشمن تھا مگر یہاں مسلمان خود مسلمان کا دشمن نہیں ہے۔۔۔کیا ہم فرقہ بندی میں نہیں پھنس گئے۔۔۔ اب ہر شخص یہاں دیوبندی۔بریلوی۔شیعہ۔ سنی نہی ہو گیا۔۔
وہاں ہماری عبادتوں میں خلل ہندو ڈالتے تھے مگر یہاں مسجد کے ساتھ والے گھر میں گانوں کی آوازیں اسپیکر پر گونجتی ہیں۔۔۔ کیا یہ وہی کردار ادا نہی کر رہے ہیں جو کردار ہندو مسجد کے باہر ڈھول بجا کر کرتے تھے.۔۔ یہاں تو مسلمان کی عبادات میں خلل خود مسلمان ڈال رہا ہے…
کیا تم پھر آزاد ہو؟ ہم تو قید ہو کر بھی آزاد تھے…
ہماری قربانی پرجشن آزادی مناو۔۔۔ یا پاک فوج کی قربانی پر یوم دفاع۔۔۔ یہ تمہارا حق ہے مگر خود کو آزاد کروانے کا عزم بھی تو کرو.۔۔تم اب تک ہماری قربانیوں کا پھل کھا رہے ہو جبکہ اس وطن کی مٹی ایک بار پھر سے قربانی مانگ رہی ہے۔۔۔تعیش کی قربانی۔۔۔نفرتوں کی قربانی۔۔جھوٹ اور کرپشن کی قربانی۔۔۔ مگر تم لوگ اپنی سوچ کی غلامی میں دھنس چکے ہو.۔۔
آج آزادی کیلئے تمہیں صرف خود کو بدلنے اور اپنی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔۔۔ مگر تم سے اتنا بھی نہیں ہو پا رہا۔۔۔ جبکہ ہم نے آزادی کیلئے سب کچھ قربان کر دیا تھا.۔۔
آج یہ وطن، یہ مٹی اور یہ سر زمیں تو آزاد ہے مگر اس میں رہنے والے اور بسنے والے آج بھی اپنی سوچ کے غلام ہیں.۔۔ غلامی کا پنجرہ تمہاری سوچ پر بیٹھا ہوا ہے؟

یہ تھےدادا ابا کے وہ سوالات جو اتنے سال گزر جانے کے باوجود ہرچھ ستمبر کو میرے کانوں میں گونجنے لگتے ہیں۔۔۔اور میں اپنے آپ سے سوال کرتا ہوں کہ کیا واقعی ہم بحیثیت قوم بیرونی سازشوں کا شکار ہو کر فرقوں میں بٹتتے نہیں جارہے اور بجائے پاکستانی ہونے کے سندھی۔۔ مہاجر ۔۔پنجابی۔۔ پشتون ۔۔۔بلوچی ہوتے نہیں جارہے ۔۔۔ذرا زرا سے اختلاف پر احتجاج کے نام پر اپنی ہی املاک کا نقصان نہیں کر رہے۔۔۔یقیننا ایسا ہی ہے اور دادا ابا کے زمانے سے بھی زیادہ ہے۔۔۔

چلیں آج یوم دفاع وطن کے دن ہم عہد کرتے ہیں کہ اپنے ملک خداداد میں اتحاد اور یگانیت کو فروغ دیں گے اور بناء تفریق رنگ و نسل و فقہہ سب سے محبت کریں گے اور ایک متحد قوم ہو کے رہیں گے۔۔۔چھوٹے چھوٹے اختلافات پر احتجاج کے نام پر اپنی املاک کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔۔۔انشاءاللہ۔۔۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فوجی بھائیوں کی طرح اپنے ملک پر قربان ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں محب وطن بنا آمین ثم آمین
پاکستان زندہ باد۔۔پاک فوج زندہ باد

@Azizsiddiqui100

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!