fbpx

لاہور: بلیاں پالنے پر نوجوان خاتون پر اپنے ہی گھر والوں نے تیزاب پھینک دیا

گھریلو جانوروں سے محبت اور انہیں پالنا جرم بن گیا، لاہور میں بلیاں پالنے پر نوجوان خاتون پر اپنے ہی گھر والوں نے تیزاب پھینک دیا، گھر والوں کی جانب سے خاتون پر ڈنڈوں سے تشدد کرنے کی ویڈیو سامنے آگئی-

باغی ٹی وی : تفصیلات کےمطابق لاہور کی رہائشی خاتون پر گھر میں بلیاں پالنے پر تیزاب پھینک دیا گیا۔ نجی ٹیلی ویژن چینل کے مطابق لاہور کے تھانہ قلعہ گجر سنگھ کی حدود میں رہائش پذیر خاتون نے گھر میں بلیاں پالی ہوئی تھیں، خاتون عائشہ کو چچی اور کزن نے مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

متاثرہ خاتون عائشہ جانوروں کے حقوق کی علمبردار ہیں۔ عائشہ ملک کا کہنا ہے کہ تشدد ہمسائی صائمہ تصور اور اس کے بیٹے بلال ملک نے کیا، مجھ پر تشدد کے ساتھ بلیوں پر بھی گرم پانی پھینکا گیا۔

کورونا کیسز میں اضافہ: اسلام آباد کے مختلف علاقے سیل کرنے کا فیصلہ

متاثرہ خاتون کا ویڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ مجھے جان سے مارنے اور زیادتی کا نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں چچا تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں پولیس انسپکٹر ہے جو دھمکیاں دے رہے ہیں متاثرہ خاتون نے متعلقہ تھانے میں درخواست جمع کروادی۔

خاتون کا کہنا ہے کہ پولیس ملزمان کو سپورٹ کررہی ہے اور میری کوئی شنوائی نہیں ہورہی۔ متاثرہ خاتون وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے واقعے نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ دینا بھر میں سینکڑوں لوگ بلیاں پالنے کا شوق رکھتے ہیں، اس حوالے سے عمان کی ایک خاتون کی تصاویر بھی وائرل ہو گئیں تھیِں، عمان کی ایک خاتون اپنے گھر میں سیکڑوں بلیوں کے ساتھ رہتی ہیں۔

جب تک چھوٹے صوبے ترقی نہیں کریں گے پاکستان کی ترقی نہیں کہلائے گی شہباز شریف

اومان کے دارالحکومت مسقط کی شہری مریم البلوشی 480 بلیاں اور 12 کتوں کے ساتھ اپنے گھر میں رہتی ہیں اور وہ ان پر ماہانہ 8000 ڈالرز خرچ کرتی ہیں۔ 51 سالہ ریٹائرڈ سول سرونٹ کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ جانوروں سے جنون کی حد تک محبت کرتی ہیں لیکن حقیقت اس سے بالکل الگ ہے۔

2008 میں ان کا بیٹا ایک پرشین بلی کو گھر لایا تھا اور ان کو بلی کا گھر میں ہونا کوئی خاص پسند نہیں تھا، مریم کا بیٹا اس بلی کا خیال نہیں رکھتا تھا تو مریم نے اس بلی کا خیال رکھنے کی ذمہ داری اٹھائی۔

پاکستان میں کورونا کے باعث مزید 66 اموات

2011 میں مریم شدید ڈپریشن میں مبتلا ہوگئیں اور وہ خود کو اس ڈپریشن سے نجات دلانے کا اعزاز بلی کو دیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ بلی نے انہیں اس ڈپریشن سے نجات دلانے میں بہت مدد کی ہے۔

اس کے بعد مریم نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنی زندگی ان جانوروں کا خیال اور ان کی دیکھ بھال کرنے میں وقف کر دیں گی۔ مریم اب اپنے گھر میں سیکڑوں بلیوں کے ساتھ رہتی ہیں اور وہ اپنا سارا وقت ان کی دیکھ بھال اور ان کا خیال رکھنے میں وقف کرتی ہیں۔

سندھ بھرمیں تعلیمی ادارے آج سے کھل گئے