نوجوانان پاکستان اور اقبال ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

کچھ روز پہلے سفر کیلئے نکلا گھر سے تو دوران سفر اک تعلیمی ادارے کی دیوار پر لکھے گئے شاعر مشرق کے اشعار اور اک ملی نغمہ کے جملے پڑھے،

شاعر مشرق کے اشعار

نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر

تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

اقبال کے شاہین اور قائداعظم کی امیدوں کے محور و مرکز نوجوان جنہیں قائداعظم اور اقبال ؒ قوم کا سرمایہ قوم کا معمار اور قوم کا مستقبل کہتے تھے ، اقبال اور قائد کو اس ملک کے نوجوانوں سے بہت سی توقعات وابستہ تھی ، قائداعظم چاہتے تھے کہ نوجوان سیاست میں شامل ہو کر ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں لیکن افسوس قیام پاکستان کے بعد ہماری وڈیرہ شاہی اورہماری اشرافیہ نے نوجوان نسل کوروکنے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے ان کو اپنے ذاتی مفادات کی خاطر تعلیمی اداروں میں بھی استعمال کیا گیا ان کو استعمال کرکے اپنی گندی سیاست کا بازار چمکایا گیا نوجوان نسل کو ایسے مشغلے ایسا نصاب اور ایساکلچر دیا گیا کہ وہ قیام پاکستان کا مقصد ہی بھول گئے ہندو دوستی کا ایسا راگ الاپا گیا کہ ہمارے نوجوان یہ سوچنے پر مجبورہوگئے کہ اگر ہندو اتنے ہی اچھے تھے تو اتنی قربانیاں دے کر علیحدہ وطن حاصل کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔ ہمارے نوجوان جن کے ہیروز قائداعظم ، علامہ اقبال ؒ خالد بن ولید اور محمد بن قاسم ہونے چاہیے تھے آج ان کے ہیروز غیر مسلم ہیں آج وہ ہندو کلچر کے دلدادہ بن چکے ہیں آج کا نوجوان اس ملک کے حالات کو دیکھ کر صرف کڑھ سکتا ہے کیونکہ اسے مجبوریوں میں ایسے مقید کردیا گیا کہ وہ چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکتا اعلی ڈگریاں لے کر اسے سڑکوں پر ذلیل کیا جارہا ہے حالانکہ اسی ملک میں جعلی ڈگریوں والے اونچی اونچی اقتدار کی کرسیوں پر فائز ہیں 
آج کا نوجوان اس ملک سے دور بھاگنے کی کوشش کرتا ہے آج ہماری نوجوان نسل بیرون ملک کے خواب دیکھتی نظرآتی ہے رشوت ، سفارش ، اور اقربا پروری کے زہر نے اسے ملک سے بدظن کر دیا ہے،
حالانکہ یہ ملک ٹیلنٹ کے لحاظ سے بہت زرخیز ہے ارفع کریم جیسے نام ہماری نوجوان نسل کیلئے تابندہ مثال ہیں بس آج کے نوجوان کو اچھی اور مخلص لیڈر شپ کی ضرورت ہے۔ اچھی لیڈر شپ ہی نوجوانوں کو قومی دھارے میں لا سکتی ہے اور ان شاءاللہ میں اس بات سے بالکل مایوس نہیں آج کا نوجوان ضرور اس ملک کو دشمنوں کی سازشوں اور اپنوں کی عنایتوں سے بچائے گا اور ہم من حیث القوم آپس کے تمام اختلافات کو چاہے و ہ فرقہ بندی کے ہو لسانی ہو جیسے بھی ہو بھلا کر ایک ہو کر اس کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں اور یہ وقت دور نہیں

اور دوسرا ملی نغمہ شعر تھا

اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں

اور میں سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ ہم اس پرچم کے سائے تلے کہاں کہاں ایک ہیں؟
ہم تو اپنی اپنی برادریوں اور سیاسی وابستگیوں میں الجھے ہوئے ہیں اور ہم غیر برادری اور سیاسی کارکنوں سے الجھنے والے اور سیاسی تماش بینوں کے لیڈروں کے دفاع میں ملکی مفاد اور ملک کی املاک کو نقصان پہنچانے کا سبب بن کر
نعرہ لگانے والے ہیں کہ
اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں،

ہم سب کو اپنی اپنی اصلاح کرکے ملکی ترقی کیلئے کام کرنا چاہئیے تاکہ
ہم یہ کہنے میں ذرا بھی شرم اور جھجک محسوس نا کریں
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر

تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

اور۔۔۔۔۔۔۔۔

اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.