fbpx

ینگ ڈاکٹرز ہڑتال پر کیوں؟ عدالت نے بڑا حکم دے دیا

ینگ ڈاکٹرز ہڑتال پر کیوں؟ عدالت نے بڑا حکم دے دیا

ینگ ڈاکٹرز کی سرکاری اسپتالوں میں ہڑتال کے حوالے سے بلوچستان ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی

سماعت چیف جسٹس ہائی کورٹ نعیم اخترافغان اورجسٹس عبدالحمید بلوچ نے کی ، صدر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ڈاکٹراحمد عباس اور دیگر عہدیدار عدالت میں پیش ہوئے، ہائی کورٹ نے ینگ ڈاکٹرزکی سرکاری اسپتالوں میں ہڑتال پر سرزنش کی اور برہمی کااظہار کیا، چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ینگ ڈاکٹر فوری طورپر اپنی ہڑتال ختم کریں، اگر ینگ ڈاکٹرز نے ہڑتال ختم نہ کی تو کارروائی کریں گے،صوبے کے تمام سرکاری اسپتال 24 گھنٹے خدمات فراہم کریں، جو اس حکم کی خلاف ورزی کرے گا،اس کےخلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی ، ینگ ڈاکٹرز آئندہ سماعت پر تحریری مطالبات کےساتھ پیش ہوں،

چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس نعیم اختر افغان نے سیکرٹری صحت نورالحق سے استفسار کیا کہ ینگ ڈاکٹرز نے ہڑتال کی تھی،اس پر آپ نے کیا کیا،سیکرٹری صحت نورالحق بلوچ نے عدالت میں کہا کہ ہماری کوشش تھی کہ معاملےکو حل کریں،دوران سماعت عدالت میں موجود سینئر ڈاکٹرز نے ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے آج سے سرکاری اسپتالوں کی اوپی ڈیز میں بیٹھنے کےلئے آمادگی کا اظہارکیا

دوسری جانب نگ ڈاکٹرز کا احتجاج جاری ہے سرکاری اسپتالوں میں 34 روز سے او پی ڈیز بند ہیں غریب اور نادار مریضوں کی مشکلات میں اضافہ ہو چکا ہے ،وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سے مزاکرات کے لیے4 رکنی پارلیمانی کمیٹی قائم کردی ہے کمیٹی میں اراکین صوبائی اسمبلی میر ظہور بلیدی ،میر نصیب اللہ مری اصغر ترین اور ملک نصیر احمد شاہوانی شامل ہیں۔ کمیٹی YDA سے مذاکرات کرکے 3 دن میں رپورٹ وزیراعلی کو پیش کریگی

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!