fbpx

پروفیسر کو نماز پڑھنے کی سزا، زبردستی رخصت پر بھیج دیا گیا

بھارت میں پروفیسر کو نماز پڑھنے کی سزا، زبردستی رخصت پر بھیج دیا گیا

بھارت کے شہر میں علی گڑھ کالج میں قانون کی تعلیم دینے والے مسلمان پروفیسر نے جب نماز پڑھی تو ان کو زبردستی رخصت پر بھیج دیا گیا۔

جب پروفیسر کالج کے لان میں نماز پڑھ رہے تھے تو کسی نے ان کی تصور کھینچ لی جو کے بعد میں سامنے آ گئی۔ نماز پڑھنا اپنے اپنے مذہب کی عبادت کرنے کا حق ہر انسان ہر شہری کو حاصل ہونا چاہیے۔لیکن جب ان پروفیسر نے علی گڑھ کالج میں نماز ادا کی تو احتجاج بھی کیا گیا اور ان کی تصویر بھی کھینچی گئی اور ان کے ساتھ زبردستی کر کے ان کو رخصت پر بھی بھیجا گیا۔

مزید یہ کہ بهارت میں علی گڑھ کالج کی انتظامیہ پروفیسر پر مزید کاروائی کے لیے تحقیقات کر رہی ہےاور پروفیسر کو ڈسپلن کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا جا چکا ہے۔

خیال رہے کہ علی گڑھ کالج کی بنیاد سر سید احمد خان نے پاکستان کے قیام سے پہلے برصغیر کے مسلانوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے رکھی تھی۔ جہاں پر مسلمان انگریزی اور جدید تعلیم سے استفادہ کرتے تھے۔