fbpx

بندوق رکھنے کے موجودہ نظام میں تبدیلی کی جائے، زید حامد نے مطالبہ کردیا

اسلام آباد: سینئر دفاعی تجزیہ نگار زید حامد نے کہا ہے کہ ہر پاکستانی شہری جو کچھ بنیادی شرائط پوری کرتا ھو، اسے عام اجازت ہونی چاہیئے کہ وہ ایک رائفل اور ایک پستول رکھ سکے،لائسنس کے بجائے رجسٹریشن کا نظام ہونا چاہیئے۔

تفصیلات کے مطابق دفاعی تجزیہ نگار زید حامد نے بندوق رکھنے کے موجودہ نظام میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ لائسنس کے بجائے رجسٹریشن کا نظام ہونا چاہیئے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ "ھر پاکستانی شہری جو کچھ بنیادی شرایط پوری کرتا ھو، اسے عام اجازت ھونی چاھیے کہ وہ ایک رایفل اور ایک پستول رکھ سکے۔۔۔لایسنس کے بجاے رجسٹریشن کا نظام ھونا چاھیے۔ جیسے گاڑیوں کے معاملے میں ھے۔ ھمیں اپنی آزادی کے دفاع کے لیے اسکی ضرورت بھی ھے اور یہ آینی اور شرعی حق بھی۔”

انہوں نے مزید کہا کہ "جس طرح گاڑیوں کی صرف رجسٹریشن ھوتی ھے، اسی طرح ھتھیار کی بھی صرف رجسٹریشن ھونی چاھیے۔ جس طرح گاڑی چلانے کا لایسنس ھوتا ھے، اسی طرح ھتھیار استعمال کی تربیت کے بعد سرٹیفیکیٹ جاری ھونا چاھیے۔ ھر قانون کا احترام کرنے والے شہری کو کم از کم دو ھتھیار رکھنے کی عام اجازت ھونی چاہیے”.

بندوق رکھنے کے موجودہ نطام موجودہ نطام میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے زید حامد نے کہا کہ "موجودہ ہتھیار کے لایسنس کا نظام انگریز کا بنایا ھوا ھے۔ غلام قوم کو غلام رکھنے کے لیے۔ اب اس میں ھماری سفارشات کے مطابق انقلابی تبدیلی کی ضرورت ھے۔ فوجی افسروں، سرکاری ملازمین اور ٹیکس دینے والوں اور دیگر شہریوں کے لیے لایسنس ختم کر کے رجسٹریشن اور تربیتی سرٹیفکیٹ کا نظام۔”