fbpx

زیر عتاب صدور شہباز اور بائیڈن تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

دو صدور اس وقت خاصے زیر عتاب ہیں

ایک تو امریکی صدر،جنہیں آجکل افغانستان سے امریکن فوج کے انخلا کی وجہ سے ان کی اپوزیشن نشانہ بنارہی ہے۔

جو بائیڈن پر گرجنے برسنے میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہی سنبھالے نہیں جا رہے۔

امریکی صدر نے اپوزیشن کی طرف سے آڑے ہاتھوں لیے جانے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں دل کی بھڑاس نکالتے ہوۓ بتایا ہے کہ افغانستان سے انخلا کا فیصلہ صرف اس کا نہیں تھا،

اس فیصلے سے پہلے دیگر تمام سٹیک ہولڈرز بشمول فوجی جرنیلز اور وزیر دفاع کے،

ہر ایک سے بات کی گئی اور تب باہم رضامندی سے یہ فیصلہ کیا گیا۔

امریکی صدر کے لئے تو چلیں اسکی اپوزیشن وبال جان بنی ہوئ ہے مگر ایک صدر ایسا بھی ہے،

جسے اُس کی اپنی ہی پارٹی نے آجکل تتے توے پر بٹھایا ہوا ہے۔

جی آپ ٹھیک سمجھے !

میری مراد پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف سے ہے،

جن کی زندگی ان کی اپنی بھتیجی مریم صفدر نے اجیرن کر رکھی ہے۔

یہی سیاست کی بے رحم فطرت ہے کہ اس میں اقتدار کے لالچی لوگ خون کے رشتے تک فراموش کر دیتے ہیں۔

جب سے نوازشریف سب کو چُونا لگا کر لندن گیا ہے،

اُس وقت سے شہباز شریف کو بطورڈمی صدر سامنے لایا گیا مگر مریم اینڈ کمپنی نے شہباز شریف کی ایک نہیں چلنے دی۔

شہباز شریف کی کہی گئی ہر ایک بات کو مریم اور اسکے ہمنوا جوتے کی نوک پر رکھے ہوۓ ہیں۔

مگر حیران کن طور پر شہباز شریف کی صدارت کا سفر جاری ہے۔

لگتا یہی ہے کہ سیاست کے سینے میں درد کے ساتھ ساتھ شرم بھی نہیں ہوتی،

وگرنہ جس طرح شہباز شریف کے ساتھ ہو رہا ہے،

ایسے میں عہدہ صدارت سے چمٹے رہنا ڈھیٹ بن کر کسی درخت سے لٹکنے کے مترادف ہے۔

گندی سیاست کے رنگ و روپ پر غور کریں تو صاف پتہ چلے گا کہ شہباز شریف کی مریم اور اسکے حواریوں کی طرف سے دُرگت بناۓ جانے میں بڑے میاں ساب کا بھی ہاتھ ہے۔

ورنہ اگر نواز شریف نہ چاہے تو شہباز شریف کو یوں رسوا کیسے کیا جا سکتا ہے؟

شہباز شریف کو صدر بھی رکھا جا رہا ہے اور ساتھ ہی اسے اسکی اوقات میں بھی رکھا جا رہا ہے۔

شہباز شریف کی کہی گئی زیادہ تر باتوں کی برملا تردید کا فریضہ شاہد خاقان عباسی ادا کر رہا ہے۔

شہباز شریف اگر دن کہے تو عباسی مریم کے اشارے پر رات کہہ دیتا ہے،

حتی کہ ایک دفعہ تو شاہد خاقان عباسی نے شہباز شریف کو وارننگ کے انداز میں سوچ سمجھ کر بات کرنے کو بھی کہہ دیا تھا۔

اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی عہدہ صدارت سے چمٹے رہنے ہی میں شہباز شریف کی بقا ہے۔

اسی میں اسکی عافیت ہے۔

کیونکہ جتنے سنگین قسم کے کرپشن کیسز اس پر چل رہے ہیں،

اسے مسلم لیگ ن کے شیلٹر کی سخت ضرورت ہے۔

کیونکہ پاکستان کے تمام بدعنوان سیاستدان اپنی اپنی کرپشن کو چھپانے اور بچانے کے لئے اپنی اپنی پارٹیوں کو بطور ڈھال استعمال کرتے ہیں۔

شہباز شریف کی بھی مجبوری ہے کیونکہ وہ تو ویسے ہی مع اہل وعیال مبینہ طور پر کرپشن کے گڑھے میں گردن تک دھنسا ہوا ہے،

اور پھر اسے پتہ ہے کہ ابھی تک ن لیگ میں نواز شریف کی چلتی ہے۔

ایسے میں وہ پارٹی چھوڑ کے کہاں جاۓ گا؟

نواز شریف نے پاکستان سے باہر ہونے کے باوجود پارٹی پر اپنی گرفت مضبوط رکھی ہوئ ہے،

یہی وجہ ہے کہ اسکے نام نہاد بیانیوں سے اختلاف کرنے والوں کو کارنر کر دیا جاتا ہے۔

شہباز شریف کو نواز شریف اور مریم کے ریاست مخالف بیانیے سے بھی شدید اختلاف ہیں مگر وہ اپنی سیاسی اور زاتی مجبوریوں کے آگے بے بس ہے۔

کہنے والے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ن لیگ کو تباہ کرنے میں مریم کا کلیدی کردار ہے۔

مریم کی ان تباہ کاریوں پر شہباز شریف کئی دفعہ نواز شریف کو شکایت بھی لگا چکا ہے مگر نواز شریف کا ووٹ ہمیشہ مریم کے ملک دشمن بیانیے کی حمایت میں ہوتا ہے،

کیونکہ نواز شریف کو پتہ چل چُکا ہے کہ نہ تو عمران خان اور نہ ہی اسٹیبلش منٹ اسے کسی قسم کا ریلیف دینے کو تیار ہے۔

ہر طرف اندھیری رات دیکھتے ہوۓ نواز شریف نے سیاست کی آڑ میں ملک و قوم کے خلاف جوڈرٹی گیم شروع کر رکھی ہے،

بظاہر شہباز شریف اپنے آپ کو اس غلیظ بیانیے سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہوۓ اپنے آپ کو ریاست کے سامنے اچھے بچے کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے،

مگر ہر بار اسکی یہ کوششیں ناکام کرنے کے لیے اسکی اپنی بھتیجی دم ٹھونک کر میدان میں آجاتی ہے۔

اور شہباز شریف ایک بار پھر شوباز بن کے رہ جاتا ہے۔

ویسے شہباز شریف کی یہی بھتیجی،

جو باپ سمیت اپنے آپ کو کشمیری اور کشمیر کی بیٹی کہتے نہیں تھکتی،

اُس کی زبان بزرگ حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی مرحوم و مغفور کے انتقال پُرملال پر کیوں گنگ ہے؟

کیا تعزیت کرنے سے مودی چچاکی ناراضگی کا ڈر ہے؟

ویسے تو شہباز شریف اور مودی دونوں ہی مریم کے چچا ہیں۔

مگر سگے والےکو اتناٹف ٹائم دینا اور مونہہ بولے کا اتناخوف کہ

کشمیریوں کی تحریک آزادی کے ایک عظیم بانی راہنما سید علی شاہ گیلانی کی وفات پر تعزیت تک ندارد

کیا یہ کُھلا تضاد نہیں ؟

تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

@lalbukhari

Sent from my iPhone