fbpx

ضمیر کی قید تحریر: جویریہ بتول

ضمیر کی قید…!!!
(جویریہ بتول).
اُلجھتی رہی لہریں بھی،طوفان بھی اُٹھتا رہا…
آتی رہی رکاوٹیں،راہِ در بھی مگر کُھلتا رہا…
قدم قدم کی ٹھوکروں نے بارہا کی گِرانے کی جستجو…
یقین تھا ایسا مگر جو گِر گِر کر سنبھلتا رہا…
شدت کے لمحات میں کہیں آنسو بھی چمک پڑے…
حوصلوں کی آغوش میں پھر دل یہ مچلتا رہا…
خطاؤں کے غبار تھے،کہیں بھول کے انبار تھے…
ہٹی نظر نہ رحیم کی،ابرِ رحمت سدا برستا رہا…
دنیا کی رنگینیوں نے کہیں حصار میں جو لے لیا…
ضمیر کا قیدی ضرب سے مسلسل ہی پلٹتا رہا…
جمی رہیں نظریں یہ امتحاں کے سود و زیاں پر…
ناکامی کا خوف تھا،جو اندر ہی اندر بڑھتا رہا…
نہیں ہو گی کچھ ناقدری ہر ایک اچھے عمل کی…
پڑھتا رہا پیغام یہ نفس،اور اُمید میں ڈھلتا رہا…!

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.