fbpx

زمانہ نازک ہے تحریر: آفاق حسین خان

زمانہ نازک ہے” یہ فقرہ غالبا ہر صدی اور دہائی میں اپنے عروج پر رہا ہے- ہم نے اپنے بزرگوں سے اور بڑوں سے ہمیشہ یہی کہتے سنا- ہرعمرمیں ہرانسان یہ فقرہ دہراتا رہا- ہو سکتا ہے ہردورمیں زمانہ نازک رہا ہوں- یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہردورکا ہر انسان فرشتہ ہو اور زمانہ ان کے لئے خراب ہو- اس دنیا میں تقریبا سات ارب لوگ ہیں- سات ارب کی اس دنیاوی آبادی میں تقریبا ہزاروں کی تعداد میں ثقافتی روآیآت پائی جاتی ہیں- چھ ہزارسے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں- اوراگرپاکستان کی بات کی جائے تویہاں تقریبا اکیس کروڑ لوگ رہتے ہیں- سترسے زائد مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں- مختلف علاقے میں مختلف زبانیں اور مختلف روایات پائی جاتی ہی- جیسے ایک گھر میں رہنے والے اورایک ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے والے بچوں کی سوچ عادت ذہنیت اور پیشہ مختلف ہوتا ہے بالکل اسی طرح ہر جگہ کی ثقافت اور روایات مختلف ہیں- ہرانسان دوسرے انسان سے مختلف ہے- ہر انسان کی سوچ , طرز زندگی دوسرے سے مختلف ہوتی ہے- یہاں تک کہ اگرایک گھرمیں رہنے والے سب بہن بھائیوں کے کمرے دیکھنے کا اتفاق ہو توسب کمروں میں آپ کو مختلف ماحول دیکھنے کو ملے گا- ہرانسان خود میں ایک ثقافت ہے لیکن ظاہر ہے بہت سی چیزیں انسان پیدا ہونے کے بعد اپنے بڑوں سے, استاد سے اورارد گرد کے ماحول سے سیکھتا ہے- لیکن ان سب سے بڑھ کر بہت سی صلاحیتیں ایسی ہوتی ہیں جو خدا کی طرف سے انسان کو دی جاتی ہیں جو کہ پیدائشی کہلاتی ہیں مثلا بہت سے لوگ قابل دماغ ہوتے ہیں بہت سے لوگ دلیر ہوتے ہیں, بہت سے لوگ محنتی ہوتے ہیں اور یہ سب صلاحیتیں انسان میں پیدائشی پائی جاتی ہے- ہرانسان کا زمانے کودیکھنے, سوچنے اورسمجھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے- زمانہ نازک کیوں ہے ایسی کون سی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے ہرعمرکے شخص کی زبان پر اکثریہ جملے سننے کو ملتے ہیں کیا واقعی زمانہ نازک ہے یا یہ محض ایک سنی سنائی بات ہے –
آج کے جدید دورمیں سوشل میڈیا ہرانسان کی ضرورت بنتا جا رہا ہے اورہر شخص اس پر مصروف دکھائی دیتا ہے- زمانہ روزبروزبدل رہا ہے ہرچھوٹی سے چھوٹی بات بھی جنگل میں آگ کی طرح پھیل جاتی ہے- ہرچیز کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک اچھا اورایک برا, بلکل اسی طرح جہاں سوشل میڈیا کے بہت سارے فوائد ہیں وہاں چند نقصانات بھی پائے جاتے ہیں- سوشل میڈیا بالاخرکیا چیزہے جواس ہرانسان اپنا قیمتی وقت دینے کو تیارہے- اس میں ایسا کیا ہے جوہرشخص اپنی مصروف زندگی سے وقت نکال کراس پروقت گزارتا ہے- میرے نزدیک سوشل میڈیا کے تین طرزہیں- کچھ لوگ اس کوصرف انٹرٹینمنٹ کے لیےاستعمال کرتے ہیں ایک پرانا محاورہ ہے “نیکی کر دریا میں ڈال” جس کو اگرہم آج کے دورمیں موڈیفائیڈ کریں تو بن جائے گا جو بھی کر سوشل میڈیا پر ڈال- سوشل میڈیا کے دوسرے پہلوکی بات کی جائے جو سب سے بہترین پہلو ہے تو وہ ہے سوشل میڈیا کا مثبت استعمال جبکہ سوشل میڈیا کا تیسرا روخ دیکھا جائے تواس میں کچھ عناصرایسے ہیں جوسوشل کا منفی استعمال کرتے ہیں جوکہ انتہائی افسوسناک بات ہے –
چندہ دہائیاں پہلے کسی کے گھرمیں ٹیلی ویژن کا ہونا ایک بہت بڑی بات سمجھی جاتی تھی یہ زیادہ پرانی بات نہیں محض تیس چالیس سال پرانی بات ہے اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس زمانے میں انٹرٹینمنٹ نہیں تھی- بالکل تھی لوگ اپنے فارغ وقت میں پارک وغیرہ یا سینما گھروں کا رخ کرتے تھے- لیکن آج کل کہیں جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم سب کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا سنیما موجود ہے جس کو آپ اپنی مرضی سے استعمال کرسکتے ہیں اورانٹرٹینمنٹ سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں- پرانے وقت میں لوگ خود مطالعہ کرنا پسند کرتے تھے جس میں اخبارات, کتابیں اور میگزین شامل ہیں لیکن آج کل بڑی تعداد میں لوگ سنی سنائی بات پرعمل کرلیتے ہیں اورخود سے اس کہانی یا آرٹیکل کو پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے- سوشل میڈیا آج بہت بڑا پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے جہاں ہر کوئی آزادی سے اپنے خیالات کا اظہارکرسکتا ہے جو کہ ایک اچھی بات ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ چند عناصرایسے ہیں جو غلط انفارمیشن کو پرموٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو سراسر غلط ہے چونکہ سوشل میڈیا کا کنٹرول کسی ایک کے ہاتھ میں نہیں اسی وجہ سے ایسے غلط مواد کی روک تھام کرنا ایک مشکل عمل بن جاتا ہے- دوسری طرف اگردیکھا جائے توسوشل میڈیا کے ان گنت فوائد بھی ہیں- ہرعام شہری اپنے مسائل یا اپنی رائے کا اظہار باآسانی کرسکتا ہے اورلوگوں تک پہنچا سکتا ہے- بہت سے لوگوں کو سوشل میڈیا پرنیوکسٹمرملتے ہیں جس کی بدولت ان کا کاروباردن دگنی رات چگنی ترقی کرتا- سوشل میڈیا آج کے دور کی ایک بہترین سہولت ہے جس کے مثبت استعمال سے ہم سب کو فائدہ اٹھانا چاہیے –

Twitter: @AfaqHussainKhan