fbpx

زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر تبدیل کیا جائے گا،طارق بشیر چیمہ

وزیر برائے قومی غذائی تحفظ اور تحقیق طارق بشیر چیمہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 1.2 ملین سے زائد زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر تبدیل کیا جائے گا تاکہ لاگت کو کم کیا جاسکے اور خاص طور پر چھوٹے زمینداروں کی زرعی آمدنی میں اضافہ کیا جاسکے۔

حکومت نے بجلی کی قیمیت میں فی یونٹ 7 روپے91 پیسے مزید اضافہ کردیا

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ اس کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے اور اس سہولت کی مالی اعانت کے لیے کمرشل بینکوں کو شامل کرنے کے لیے ایک ٹاسک فورس بنائی جا رہی ہے۔ اس سہولت کے تحت کسانوں کو تین سال تک کی قسطوں میں قرض ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر کیا گیا ہے جنہوں نے کم سے کم وقت میں ٹھوس نتائج کو یقینی بنانے کے لیے قلیل اور طویل مدتی پالیسیاں مرتب کرنے کے لیے کہا ہے، جس میں خاص طور پر غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے زرعی شعبے کی بحالی پر توجہ دی جا رہی ہے۔

 

اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس؛ پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم کیلئے بولی کی منظوری

 

کاشتکاروں کو ان کی پیداوار کے لیے مناسب شرح منافع کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ تمام بڑی اور چھوٹی فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کپاس کی مداخلتی قیمت کے لیے سفارشات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور اسے کابینہ کے اگلے اجلاس کے ایجنڈے میں منظوری کے لئے رکھا جائے گا۔

وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ وہ اس اہم فصل کی زیادہ سے زیادہ رقبہ کو زیر کاشت لائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سیزن کے دوران فصل کی بوائی کے رقبے میں 37 فیصد کمی ہوئی جس کی جگہ چاول، مکئی اور گنے نے لے لی۔

وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ حکومت بوائی کے سیزن کے آغاز سے قبل گندم کی کم از کم امدادی قیمت کا اعلان کرنے کی بھی خواہشمند ہے تاکہ کسانوں کو زیادہ گندم کی بوائی کی ترغیب دی جا سکے تاکہ وہ بنیادی اناج کی پیداوار میں خود کفالت حاصل کر سکیں اور درآمد شدہ گندم اور خوردنی تیل پر انحصار کم کر سکیں، جو غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عام آدمی کو درپیش مسائل سے آگاہ ہے اور مہنگائی کے دباؤ سے بچانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں اور مزید کیے جائیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے نیٹ ورک کے ذریعے کنٹرول شدہ نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے اور رمضان کے مقدس مہینے میں گندم، آٹا اور دیگر اشیاء فراہم کرتی رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابھرتے ہوئے روس یوکرائن تنازعہ سے غذائی اجناس کی کسی بھی ممکنہ قلت کو روکنے کے لیے حکومت نے اپنے سٹریٹجک ذخائر کو بڑھا دیا ہے اور تمام صوبائی حکومتوں اور پاسکو کے گندم کی خریداری کے اہداف کو بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً 30 لاکھ ٹن درآمد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ گندم کی سال بھر ہموار فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

موجودہ حکومت کی جانب سے زرعی شعبے کے لیے متعارف کرائے گئے ریلیف اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹریکٹرز پر سیلز ٹیکس واپس لے لیا گیا اور کپاس اور کینولا کے بیجوں کو سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ کاشتکاروں کی سہولت کے لیے کھادوں پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت چھوٹے پیمانے پر کاشتکاروں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے کیونکہ وہ 12 ایکڑ سے کم اراضی رکھنے والی کاشتکار برادری کا تقریباً 92 فیصد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قرض کی سہولت تک ان کی رسائی کو یقینی بنانے اور انہیں استحصال سے بچانے کے لیے اقدامات متعارف کرائے جائیں گے۔

طارق بشیر نے کہا کہ پچھلی حکومت کی جانب سے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے ساتھ سخت شرط کے باوجود اتحادیوں نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے سخت فیصلے کرنے کا فیصلہ کیا اور عوام کو حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے اعتماد میں لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ حکومت چین کے تجربے اور زراعت اور لائیو سٹاک میں مہارت سے استفادہ کے لیے دیگر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین کے ساتھ بھینسوں کی نسل کی بہتری کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین گائے کے گوشت کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے اور چین سے کہا گیا کہ وہ پاکستان میں ایسے فارمز قائم کرے جو مقامی لائیو سٹاک کے شعبے کو بھی ترقی دینے میں معاون ثابت ہوں گے۔

وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ ایران کے ساتھ بارٹر تجارت جو کہ گزشتہ دو سال سے معطل تھی اس کو بھی بحال کر دیا گیا ہے اور رواں ماہ میں سیب کی پہلی کھیپ یہاں پہنچے گی اور پاکستان سے آم ایران کو برآمد کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ستمبر تک مکمل تجارت دوبارہ شروع کر دی جائے گی۔ تقریباً 100,000 ٹن چاول ایران کو برآمد کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ، علاقائی ممالک کے ساتھ تجارت کو بڑھانے کے لیے ٹرانزٹ ٹریڈ میں موجود دیگر رکاوٹوں کو بھی دور کیا گیا ہے، تاکہ مقامی زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں کو فروغ دیا جا سکے۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت معیاری بیجوں اور کیڑے مار ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور مونسانٹو کمپنی کے ساتھ مذاکرات کو حتمی شکل دی جا چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے دوسرے مرحلے کے تحت لائیو سٹاک اور تحقیق میں زرعی تعاون پر کام جاری ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ زراعت کے شعبے کو مزید قابل عمل اور مضبوط بنانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کی رائے لینے کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر بشیر چیمہ نے کہا کہ حکومت تمام صوبوں کو ساتھ لے کر ایک طریقہ کار وضع کر رہی ہے تاکہ کھاد کی سستی قیمتوں فراہمی یقینی بنائی جا سکے، اس کے علاوہ ذخیرہ اندوزی اور اجناس کی بلیک مارکیٹنگ کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

طارق بشیر چیمہ نے مزید بتایا کہ حکومت ملک میں تیل کے بیجوں کی کاشت کو فروغ دینے کے لیے خصوصی مراعات فراہم کرے گی کیونکہ تیل کی درآمد پر تقریباً 4.5 ڈالر سالانہ خرچ آ رہا ہے جو کہ اگلے سال تک 6 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔