fbpx

زراعت کے شعبے کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں. سید خورشید شاہ

وفاقی وزیر برائے آبی وسائل خورشید شاہ نے کہا ہے کہ مشکل حالات سے مقابلہ کررہے ہیں ،

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ جوکام 4 سال میں نہیں کیے گئے وہ 4 دن میں بھی ہوئے ہیں،اتحادی حکومت دیگرامور پر بھی توجہ مرکوز رکھی ہوئی ہے، جو منصوبے روکے ہوئے تھے ان پر دوبارہ کام شروع کردیا گیا پاکستان کے کسانوں کو ان کا حق ملنا چاہیے 12جون کوبھاشا اورداسوڈیم کا دورہ کروں گا،رواں برس ہم گندم درآمدکررہے ہیں حال ہی میں مہمند اورتربیلا ڈیم کا دورہ کیا،زراعت کو آگے لانے کی کوشش کررہے ہیں کہ درآمد کرنا پڑے،دس پندرہ سال میں پاکستان مقروض ممالک میں نہیں ہوگا، خیبرپختونخواکو 2 فیصدپانی کم مل رہا ہے،زراعت کو آگے لانے کی کوشش کررہے ہیں کہ کوئی چیز درآمد نہ کرنا پڑے، پانی کے مسائل کو حل کرنے اور کمی کو ختم کرنے کے لیے نئے پروجیکٹ شروع کر رہے ہیں جن پروجیکٹ پر کام جاری ہے انہیں جلد مکمل کریں گے آج باتیں ہو رہی ہیں کہ ہم آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگر اداروں کے پاس مدد کیلئے جاتے ہیں زراعت کے شعبے کو اتنا مضبوط کرنا چاہتے ہیں کہ ہم امپورٹ کرنے کے بجائے ایکسپورٹ کریں اور ہم قرضوں سے باہر نکلیں

وفاقی وزیر سید خورشید شاہ کا مزید کہنا تھا کہ 2023 میں مہند ڈیم کا کام مکمل ہوجائے گا ،15جون سے مون سون بارشوں کا سلسلہ شروع ہوجائے گا، ہم خون ریزی نہیں چاہتے ،قانون خود راستہ اختیار کرے گا،

ترجمان پیپلز پارٹی فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ زراعت پر تو جہ ہے اس پر مزید کام کریں گے، ہمارے دور میں گندم ایکسپورٹ کر رہے تھے اب ہم امپورٹ کر رہے ہیں،3ملین ٹن گندم بیرون ملک سے منگوائی جارہی ہے،

عمران خان خود امپورٹڈ، بینظیر کو کس نے کہا تھا اس بچے کا خیال رکھنا؟ خورشید شاہ کا انکشاف

خورشید شاہ،مولانا ملاقات کے بعد زرداری ہاؤس میں بڑی بیٹھک

تحریک عدم اعتماد کب جمع ہو گی؟ خورشید شاہ نے سب بتا دیا

عمران خان نے دھوکہ دیا، خورشید شاہ کا بڑا اعلان