fbpx

‏زرائع کامیابی تحریر: آنوشہ امتیاز

‏زرائع کامیابی۔۔
اس دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جو ہر چیز کے روشن پہلو دیکھتے ہیں اور ہر کام کو اس یقین کے ساتھ شروع کرتے ہیں، کہ ہم اس میں ضرور کامیاب ہوں گے، وہ مشکلات اور عارضی رکاوٹوں کے ساتھ جنگ کرتے ہیں اور بالآخر ضرور کامیاب ہو جاتے ہیں، کیونکہ اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیشہ ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔۔۔
دوسری قسم کمزور دل لوگوں پہ مشتمل ہے، یہ کام کرنے سے پہلے کئی ماہ سوچتے ہیں کہ کیا ہم کامیاب ہو سکیں گے، ناکامی کا خطرہ ان کے دل سے نہیں نکلتا اور خیالی مشکلات کے بھوت ان پر سوار رہتے ہیں، بلآخر اپنی کمزوریوں کی بدولت ہمیشہ ناکام رہتے ہیں، ناکامی کا تجربہ ان کے پیشِ نظر رہتا ہے اور وہ فکر میں گھرے رہتے ہیں، اللّٰہ تعالیٰ کا قانون ایسے لوگوں کے ساتھ رعایت نہیں کرتا اور کامیابی ان کے شامل حال نہیں ہوتی ۔۔۔
کامیابی کی ضروری شرائط کو تین جامع الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے ، "کامیابی، دیانتداری، عزم بالجزم "۔۔
کامل یک سوئی یعنی ایک مقصد پر تمام قوتوں کا اجتماع،
صحیح قوت فیصلہ، دنیا اور اہل دنیا کے متعلق مکمل معلومات،
کام کے ساتھ زوق و شوق،
اللّہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت اور خیالات کی پاکیزگی،
ایمانداری، محنت اور استقلال،
الفاظ کم کام زیادہ ،
محنت، توکل اور اللّٰہ پر بھروسہ،
کامیابی کی منزل پر پہنچنا دشوار نہیں، بشرطیکہ صحیح راستہ چنا جائے، جو شخص مناسب حالات اور بہتر مواقع کا منتظر رہتا ہے وہ اپنی قبر آپ کھودتا ہے، کیونکہ دنیا میں جتنے بھی بڑے آدمی گزرے ہیں وہ باوجود مخالفت کے کامیاب ہوئے ہیں یا یہ کہنا چاہیے کہ ہر کامیاب انسان زمانے کے مخالف سمت جا کر ہی کامیابی حاصل کرتا ہے۔۔۔
گویا کامیابی کا واحد راستہ ہی ناکامی ہے،
اور زندگی میں آگے بڑھنے کے لئیے ضروری ہے کہ انسان مواقع سے فایدہ اٹھانے کے لیے تیار رہے، جو لوگ آج کے کام کو کل پہ چھوڑ دیتے ہیں وہ یہ نہیں سوچتے کہ آج ہم نے کیا کر لیا جو کل کر لیں گے ، کامیابی کے محل کو حاصل کرنے کے لیے انسان اس کا دروازہ خود بناتا ہے، اور کام یا مقصد جتنا اچھا اور بڑا ہو گا اتنی ہی دقتیں اٹھانا پڑیں گی۔۔
درحقیقت مشکل کاموں کو سرانجام دینے میں ہی لطف ہے ، ورنہ ہر شخص آسان کام پہ ہی ہاتھ ڈالتا، وہ فتوحات جو آسانی سے حاصل ہو جائیں، کم قیمت ہو جاتی ہیں، اور قابلِ قدر فتوحات وہ ہیں جو انتھک محنت کا نتیجہ ہوں، کمزور انسان مواقع کے انتظار میں رہتے ہیں جبکہ عقلمند انسان اپنے مواقع خود پیدا کرتا ہے۔۔
کامیابی کے چند اقوال درج ذیل ہیں۔۔
"عمدہ اور صاف و شفاف چشموں کی تلاش نہ کرو، اپنا ڈول جہاں سے بھر سکتے ہو بھر لو”۔۔
"جفا کشی کے سمندر کی تہہ کامیابی کے موتیوں سے بھری پڑی ہے”۔
"اپنی تمام طاقتوں کو جمع کر کے ایک مرکز پہ لگاؤ”۔۔
"کامیابی کا زینہ ناکامی کے ڈنڈے سے تیار ہوتا ہے”۔ ۔
"انسان دنیا کے سمندر میں تنکے کی طرح بہہ جانے کے لئے پیدا نہیں ہوا بلکہ اس لئیے بھیجا گیا ہے کہ ملاح کی طرح موجوں کا مقابلہ کرتا ہوا آوروں کو پار اتارنے کی کوشش کرے”۔۔
"دنیا میں وہی پست ہیں، جن کے حوصلے پست ہیں” ۔۔
نپولین سے اس کے سپہ سالار نے کہا کہ کوہ ایلپس پہ چڑھنا ناممکن ہے، نپولین نے کہا ناممکن کا لفظ پست لوگوں کی لغات میں پایا جاتا ہے چنانچہ اس کی عالی ہمت نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا، ایک دفعہ راجہ رنجیت سنگھ جب دریائے اٹک پہ پہنچا تو آگے دریا پار کرنے کا سامان نہیں تھا، اس نے گھوڑا دریا میں ڈال دیا کسی نے کہا جناب یہ معمولی دریا نہیں یہ اٹک ہے، رنجیت سنگھ نے فوراً کہا،
"جس کے دل میں اٹک اس کے لئے اٹک” چونکہ عالی ہمت تھا اس لئے پار ہو گیا،اور کامیاب ہوا،
ان سب باتوں سے ہم یہ سبق سیکھتے ہیں کہ انسان کو بلند ہمت ہونا چاہیئے، محنت اور جستجو کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے اور صبرو استقلال کا مظاہرہ کرنا چاہیے، اللّٰہ سبحانہ وتعالی ہم سب کو زندگی کے ہر موڑ پہ کامیابیاں عطا فرمائے،
آمین یارب العالمین…

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!