زہریلی گیس کہاں سے خارج ہو رہی؟ سراغ لگا لیا گیا، مقدمہ درج

زہریلی گیس کہاں سے خارج ہو رہی؟ سراغ لگا لیا گیا، مقدمہ درج

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کیماڑی سے پر اسرار زہریلی گیس کے اخراج کا پتا چل گیا ہے،

نجی ٹی وی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اہم اداروں نے یہ سراغ لگا لیا ہے کہ کراچی پورٹ پر لنگر انداز مال بردار جہاز ہی گیس کے اخراج کی وجہ ہے۔لیکن وفاقی وزیر علی زیدی اور چیئرمین کے پی ٹی اس بات کی تردید کر رہے ہیں کہ پورٹ میں ایسا کچھ نہیں تا ہم تحقیقات کے بعد سب سامنے آ جائے گا،

دوسری جانب زہریلی گیس اخراج کا مقدمہ بھی جیکسن پولیس نے درج کر لیا، مقدمے میں قتل بالسبب، زہر خورانی کی دفعات شامل کی گئی ہیں، مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف سرکاری مدعیت میں درج کیا گیا۔

کمشنر کراچی کا کہنا ہے کہ ایک جہاز کے پی ٹی پر کچھ منتقل کر رہا ہے جس سے گیس کا اخراج ہو رہا ہے، اس کنٹینر سے آف لوڈنگ بند کروا دی گئی ہے، تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ کنٹینر کا دروازہ بند کرتے ہیں تو گیس اخراج کم ہو جاتا ہے، سپارکو نے نمونے بھی اکھٹے کر لیے ہیں۔

شہر قائد میں زہریلی گیس، کسٹم ہاؤس کے ملازمین بے ہوش، کسٹم ہاؤس کو تالے لگ گئے

کراچی میں زہریلی گیس کا اخراج کہاں سے ہوا؟ چیئرمین کے پی ٹی بول پڑے

کراچی میں زہریلی گیس کا پھر حملہ، ہلاکتیں 8 ہو گئیں،مریضوں میں اضافہ

کراچی میں زہریلی گیس کہاں سے آئی؟ جوڈیشیل تحقیقات کا مطالبہ سامنے آ گیا

گیس سے متاثرہ علاقے میں رینجرز کی بھاری نفری موجود ہے، رینجرز اہل کار متاثرہ علاقے سے لوگوں کو اسپتال پہنچانے میں مدد کر رہے ہیں، علاقے میں آنے جانے والے افراد میں ماسک بھی تقسیم کیے گئے۔

کیماڑی میں زہریلی گیس سے میڈیا کے نمایندے بھی متاثر ہوئے، گزشتہ رات علاقے میں موجود 2 نجی نیوز چینلز کے رپورٹرزکی طبیعت بگڑ گئی، دونوں صحافیوں کو کے پی ٹی اسپتال منتقل کیا گیا۔

جماعت اسلامی کے رہنما رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید نے کیماڑی میں مبینہ زہریلی گیس پھیلنے سے قیمتی جانوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عبدالرشید نے آٹھ شہریوں کی ہلاکت پر بڑے دکھ کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ زہریلی گیس سے ہلاکتوں اور درجنوں افراد کے بیہوش ہونے کا فوری نوٹس لیا جائے،

رہنما جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا وفاقی وصوبائی حکومت واقعے کی شفاف و جوڈیشل انکوائری کرائے،زہریلی گیس پھیلنے کے اسباب معلوم کرکے ذمے داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ جاں بحق افراد کے ورثا کو معاوضہ اور بے ہوش ہونے والوں کو بہترین علاج کی سہولت فراہم کی جائے

پرسرار اور زہریلی گیس کیماڑی سے نکل کر کھارادر اور رنچھوڑ لائن تک پہنچ گئی، گیس سے متاثر ہوکر مزید 86لوگ اسپتال میں داخل ہوگئے، پرسرار گیس سے متاثر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 220 تک پہنچ گئی۔

 

زہریلی گیس، جاں بحق افراد کا پوسٹ مارٹم کیوں نہیں کروایا گیا؟ مبشر لقمان نے اٹھایا اہم سوال

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.