زہریلی گیس سے اموات، معاملہ عدالت پہنچ گیا، درخواست دائر

زہریلی گیس سے اموات، معاملہ عدالت پہنچ گیا، درخواست دائر

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں پھیلنے والی زہریلی گیس کے حوالہ سے تحقیقات اور جاں بحق افراد کو معاوضے کے لئے عدالت میں درخواست دائر کر دی گئی ہے

درخواست عبدالجلیل مروت ایڈوکیٹ نے دائر کی ہے، درخواست میں کے پی ٹی، حکومت سندھ آئی، جی سندھ و دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ۔درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ کیماڑی میں زہریلی گیس کے اخراج سے 6 لوگوں کی اموات ہوچکیں، اب تک 100 کے قریب لوگ متاثر ہو چکے ، تحقیقات کرائی جائیں کہ واقعہ کا ذمہ دار کون ہے،

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ تحقیقات کرکے ذمہ داروں کیخلاف کاروائی اور متاثرین کو معاوضہ دیا جائے،

دوسری جانب زہریلی گیس اخراج کا مقدمہ بھی جیکسن پولیس نے درج کر لیا، مقدمے میں قتل بالسبب، زہر خورانی کی دفعات شامل کی گئی ہیں، مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف سرکاری مدعیت میں درج کیا گیا۔

شہر قائد میں زہریلی گیس، کسٹم ہاؤس کے ملازمین بے ہوش، کسٹم ہاؤس کو تالے لگ گئے

کراچی میں زہریلی گیس کا اخراج کہاں سے ہوا؟ چیئرمین کے پی ٹی بول پڑے

کراچی میں زہریلی گیس کا پھر حملہ، ہلاکتیں 8 ہو گئیں،مریضوں میں اضافہ

کراچی میں زہریلی گیس کہاں سے آئی؟ جوڈیشیل تحقیقات کا مطالبہ سامنے آ گیا

زہریلی گیس، جاں بحق افراد کا پوسٹ مارٹم کیوں نہیں کروایا گیا؟ مبشر لقمان نے اٹھایا اہم سوال

جماعت اسلامی کے رہنما رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید نے کیماڑی میں مبینہ زہریلی گیس پھیلنے سے قیمتی جانوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عبدالرشید نے آٹھ شہریوں کی ہلاکت پر بڑے دکھ کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ زہریلی گیس سے ہلاکتوں اور درجنوں افراد کے بیہوش ہونے کا فوری نوٹس لیا جائے،

رہنما جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا وفاقی وصوبائی حکومت واقعے کی شفاف و جوڈیشل انکوائری کرائے،زہریلی گیس پھیلنے کے اسباب معلوم کرکے ذمے داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ جاں بحق افراد کے ورثا کو معاوضہ اور بے ہوش ہونے والوں کو بہترین علاج کی سہولت فراہم کی جائے

پرسرار اور زہریلی گیس کیماڑی سے نکل کر کھارادر اور رنچھوڑ لائن تک پہنچ گئی، گیس سے متاثر ہوکر مزید 86لوگ اسپتال میں داخل ہوگئے، پرسرار گیس سے متاثر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 220 تک پہنچ گئی۔

زہریلی گیس کہاں سے خارج ہو رہی؟ سراغ لگا لیا گیا، مقدمہ درج

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.