fbpx

زندہ لاشیں تحریر بشارت حسین

پہلی بار یہ لفظ بارہ تیرہ سال کی عمر میں سنا جب میرے پڑوس میں ایک شخص گرا اور اس کی کمر کی ہڈی ٹوٹ گئی کافی علاج معالجے کے باوجود بھی جب وہ ٹھیک نہ ہوا تو ایک دن اس کے گھر جانا ہوا جب حال پوچھا تو کہنے لگا زندہ لاش ہوں اب تو بس زندگی جیسے کیسے گزارنی ہے سانس تو چلتی ہے لیکن اپنا بھی پتا نہیں نیچے کا حصہ ناکارہ ہو چکا۔
مجھے لگا اس کی بات تو کافی حد تک ٹھیک ہے
لیکن وقت کے ساتھ ساتھ مجھے احساس ہوا کہ وہ شخص تو مجبور تھا محتاج ہو گیا تھا
درحقیقت وہ زندہ لاش نہیں تھا زندہ لاشوں سے تو ہمارا معاشرہ بھرا پڑا ہے۔
جہاں ہر گھر،ہر محلے،ہر گلی اور ہر جگہ چلتی پھرتی دوڑتی زندہ لاشیں نظر آتی ہیں۔
بڑی بڑی گاڑیوں میں کلبوں میں بڑے بڑے ہوٹلوں میں تفریحی مقامات پہ بینکوں میں بسوں میں الغرض ہر شعبہ زندگی میں زندہ لاشوں کا راج ہے۔
زندہ لاشیں ہی تو ہیں روڈ پہ ایکسیڈنٹ ہو جاتا ہے لوگ مر رہے ہوتے زخمی تڑپ رہا ہوتا ہے بلبلا رہا ہوتا ہے مدد کیلئے پکار رہا ہوتا لیکن کوئی مدد کیلئے نہیں آتا گاڑیاں اپنی ہی سپیڈ میں جا رہی ہوتی ہیں کوئی تماشا دیکھنے فوٹو لینے ذرا سا آہستہ ہو جاتا ہے پھر نکل جاتا ہے۔ بنائی ویڈیو یا تصویر کو سوشل میڈیا کی نظر کیا جاتا ہے لائک کمنٹ آتے ہیں بس اس کا فرض پورا ہو جاتا ہے یہ ہیں زندہ لاشیں جن کے اندر اتنی بھی ہمدردی نہیں ہوتی ہے کسی کو ہسپتال پہنچا سکیں کسی کی زندگی بچا سکیں۔
کسی کے جگر کے ٹکڑے کو مرنے سے بچانے کی جسارت کر لیں۔ نہیں کبھی نہیں کیونکہ ان کو کیا ہے وہ انکا بیٹا نہیں بھائی نہیں بیٹی نہیں ان سے کوئی رشتہ نہیں پھر کیوں مدد کریں کیوں اپنا وقت ضائع کریں۔
جب انسانیت کے مقدس رشتے کو یوں پامال کیا جاتا ہے یوں پس پشت ڈالا جاتا ہے تو پھر میں کہتا ہوں وہ شخص نہیں یہ زندہ لاشیں ہیں جن کو اپنے مفاد کے علاوہ کچھ نظر نہیں اتا۔
جب کہیں مظلوم پہ ظلم ہو رہا اور مجمع اکٹھا ہو کر اس کا تماشا کر رہا ہو وہاں مظلوم کا ساتھ دینے والا کوئی نہ ہو تو مجھے وہ سب زندہ لاشیں نظر آتی ہیں وہ سب درد انسانیت سے عاری زندہ لاشیں۔
ایک غریب آدمی جب اپنی جمع پونجی لیکر دل کو سو دلاسے دے کر ہسپتال آتا ہے تو وہاں معالج کے بجائے ایک لٹیرا ہوتا ہے جسکو اس کے پھٹے کپڑے دیکھ کر بھی حیا نہیں آتی ۔ اپنے کمیشن کی خاطر ایسے عجیب و غریب ٹسٹ لکھ کر دیے جاتے ہیں جن کا اس کی بیماری سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ کمیشن کی خاطر خوامخواہ مہنگی دوائیاں لکھ کر تھما دی جاتی ہیں۔
یہاں ایسے لوگوں کو دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ یہ درحقیقت زندہ لاشیں ہیں۔
جب دودھ میں پانی ملانے والے کو دیکھتا ہوں تو سمجھ آتی ہیں زندہ لاشیں تو یہ ہیں جنکو نہ کسی کی صحت کا احساس ہے نہ کسی کی زندگی کا۔ پڑوس میں غریب کے بچے بھوکے سو رہے ہیں اور گھر میں شراب نوشی کی محفل جمی ہے زندہ لاشیں تو یہ ہیں۔
قوم کے بچے سڑکوں پہ دھکے کھا رہے ہیں اور صاحب اقتدار قوم کا پیسہ لوٹ کر ملک سے بھاگ رہے ہیں اپنے اثاثے بنا رہے ہیں کوئی پرواہ نہیں سڑکوں پہ پھول بچتے ہوئے ان پھولوں کی جن کے والدین نے ان کیلئے کیا کیا سپنے دیکھے ہوتے ہیں پھر انکو زندہ لاشیں نہ لکھوں تو کیا لکھوں؟
جب راستے پہ عورتوں کو چھیڑا جاتا ہے تو کوئی ان درندوں کو نہیں روکتا یہ سوچ کر شاید کہ یہ انکی کچھ نہیں لگتی حقیقت یہ نہیں حقیقت یہ ہے کہ ان کے اندر انسان مر چکا ہے۔
گھروں میں نوکروں سے جانوروں جیسا سلوک، پولیس کا امیروں سے درد مندانہ اور غریبوں سے ظالمانہ سلوک دیکھ کر لگتا ہے کہ انسانیت مر گئی ضمیر مر گئے اب ان زندہ لاشوں سے کسی بھی اچھائی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ کرنے والا دھوکے سے لوگوں سے پیسہ بٹورنے والا ، زمینوں کی غلط خرید و فروخت کرنے والا ، پانی جیسی نعمت کو بھی غلط طریقے سے فروخت کرنے والا، ذخیرہ اندوزی کرنے والا ان سب کو کیا کہوں جن کے اندر کا انسان یہ کہنے کے بھی قابل نہیں کہ تم غلط کر رہے ہو۔
معاشرے کا ہر وہ شخص زندہ لاش ہے جس میں احساس نہیں دوسروں کیلئے ہمدردی نہیں محبت نہیں۔ جسکو کسی کی پرواہ نہیں کہ کوئی بھوکا مر رہا ہے یا پیاسا مر رہا ہے کوئی زخمی ہے یا مظلوم ہے۔
اب اپنے گریبان میں بھی جھانکیں آپ کا صف میں کھڑے ہیں؟
کہیں آپ بھی زندہ لاش تو نہیں؟

https://twitter.com/Live_with_honor?s=09