fbpx

زندہ چوہے کھانے کے الزام میں ایک خاتون کو گرفتار

لندن: برطانوی پولیس نے سوشل میڈیا پر لائیو پوسٹ میں زندہ چوہے کھانے کے الزام میں ایک خاتون کو گرفتار کرلیا۔

باغی ٹی وی : برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی پولیس نے 39 سالہ خاتون کو حراست میں لے لیا۔ خاتون پر زندہ چوہا کھانے اور اس عمل کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر براہ راست نشر کرنے کا الزام ہے۔

برطانیہ: 20 سالہ لڑکی نے اپنی پیدائش سے متعلق ڈاکٹر کیخلاف انوکھا مقدمہ جیت لیا

رپورٹس کے مطابق خاتون نے چوہا کھانے کے بعد پانی پیا اور منشیات کا بھی استعمال کیا۔ خاتون کے اس عمل کو سوشل میڈیا ہزاروں صارفین نے دیکھا اور شدید احتجاج کیا تھا جس پر پولیس نے خاتون کو حراست میں لے لیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ خاتون نے یہ عمل ایک چیلنج کے طور پر کیا۔ خاتون پر جانوروں کے خلاف ظالمانہ حرکت کی دفعات کے تحت مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔

پولیس نے عوام سے درخواست کی ہے کہ اس ویڈیو کو شیئر نہ کریں اور نہ ہی اس پر تبصرہ کریں تاکہ اس کے وسیع پیمانے پر پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

شہزادی کیٹ مڈلٹن محقق بن گئیں

قبل ازیں برطانوی خاتون کا کہنا تھا کہ غاروں میں پتھر کے عہد کی زندگی سے انہیں بچپن میں ہی محبت ہوگئی تھی برطانوی خاتون سارہ ڈے نے خود کو غار میں رہنے والی عورت قرار دیا وہ خیمےمیں رہتی ہیں،مردارجانورکھاتی ہیں اور ان کی کھال سے تن ڈھانپتی ہیں پیشے کے لحاظ سے 34 سالہ سارہ ڈے بچوں کو تاریخ اور مشکل حالات میں زندہ رہنے کے طریقے سکھاتی ہیں لیکن وہ خود شہر چھوڑ کر جنگلات میں جاتی ہیں۔

گاڑیوں کی ٹکر سے ہلاک ہونے والے جانور سارہ ڈے کی غذا بنتے ہیں جبکہ وہ جڑی بوٹیوں سے علاج کرتی ہیں اور حیوانات کی کھال سے لباس بناتی ہیں سارہ نے کبوتر کے پر، خرگوش، گلہری اور چوہے کا گوشت بھی کھایا ہے جن کی لاشیں ہفتے میں ایک مرتبہ مل ہی جاتی ہیں جو کاروں کی ٹکر سے مرجاتے ہیں لیکن وہ 24 گھنٹے سے زائد پرانی لاش نہیں کھاتیں وہ گرم اور حال میں ہی مرا ہوا جانور کھانا پسند کرتی ہیں۔

جنگل میں رہنے والی عورت جو مردار کھاتی اور جانوروں کی کھال پہنتی ہے