fbpx

پھر یوں ہوا کہ زندگی میری نہیں رہی

پھر یوں ہوا کہ زندگی میری نہیں رہی
اس کی نہیں رہی تو کسی کی نہیں رہی

فاطمہ حسن

اصل نام: سیدہ انیس فاطمہ زیدی
تاریخ پیدائش:25 جنوری 1953ء
جائے پیدائش:کراچی
زبان:اردو
اصناف:تحقیق، تنقید،شاعری
تصنیفات:
۔۔۔۔۔۔
۔ (1)بلوچستان کاادب اور خواتین-2006
۔ (2)فیمینزم اور ہم-2005
۔ (3)خاموشی کی آواز-2004
۔ (4)یادیں بھی اب خواب ہوئیں-2004
۔ (5)کہانیاں گم ہوجاتی ہیں-2000
۔ (6)دستک سے در کافاصلہ-1993
۔ (7)بہتے ہوئے پھول-1977
مستقل پتا:ڈی41 بلاک7، گلشن اقبال ،کراچی

نام سیدہ انیس فاطمہ،ڈاکٹر اور تخلص فاطمہ ہے۔ 25 جنوری 1953ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ان کے آباء و اجداد کا وطن غازی پور(بھارت) تھا۔ سات برس کی عمر میں اپنے والدین کے ہمراہ ڈھاکا چلی گئیں اور وہیں تعلیم حاصل کی۔ 1971ء میں ڈھاکا یونیورسٹی میں آنرز کی طالبہ تھیں کہ سقوط ڈھاکا کا سانحہ پیش آیا۔ 1973ء میں بھارت اور نیپال سے ہوتی ہوئی کراچی پہنچیں۔ یہاں آکر جامعہ کراچی سے صحافت میں ایم اے کیا اور 1977ء میں محکمۂ اطلاعات سندھ گورنمنٹ کے شعبۂ اشاعت سے وابستہ ہوئیں۔ پھرسوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن میں ڈپٹی ڈائرکٹر کی حیثیت سے تقرر ہوا۔ ترقی کرکے اس ادارے میں ڈائرکٹر ،تعلقات عامہ ترتیب وتحقیق کے عہدے پر فائز رہیں۔ فاطمہ حسن شاعری کے علاوہ افسانے بھی لکھتی ہیں۔ ماہ نامہ’’اظہار ‘‘کی نائب مدیرہ رہ چکی ہیں۔ ا ن کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’بہتے ہوئے پھول‘‘، ’’دستک سے درکا فاصلہ‘‘(شعری مجموعے)،’’کہانیاں گم ہوجاتی ہیں‘‘(افسانے)، ’’یادیں بھی اب خواب ہوئیں‘‘(شعری مجموعہ)، ان تینوں شعری مجموعوں کو ملا کر ایک مجموعہ ’’یاد کی بارشیں‘‘کے نام سے منظر عام پر آیا ہے۔ ’زاہدہ خاتون شیروانیہ‘ پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:415

غزل
۔۔۔۔۔
سکون دل کے لیے عشق تو بہانہ تھا
وگرنہ تھک کے کہیں تو ٹھہر ہی جانا تھا
جو اضطراب کا موسم گزار آئیں ہیں
وہ جانتے ہیں کہ وحشت کا کیا زمانہ تھا
وہ جن کو شکوہ تھا اوروں سے ظلم سہنے کا
خود ان کا اپنا بھی انداز جارحانہ تھا
بہت دنوں سے مجھے انتظار شب بھی نہیں
وہ رت گزر گئی ہر خواب جب سہانا تھا
کب اس کی فتح کی خواہش کو جیت سکتی تھی
میں وہ فریق ہوں جس کو کہ ہار جانا تھا

غزل
۔۔۔۔۔
قربتوں میں فاصلے کچھ اور ہیں
خواہشوں کے زاویے کچھ اور ہیں
سن رہے ہیں کان جو کہتے ہیں سب
لوگ لیکن سوچتے کچھ اور ہیں
رہبری اب شرط منزل کب رہی
آؤ ڈھونڈیں راستے کچھ اور ہیں
یہ تو اک بستی تھکے لوگوں کی ہے
راہ میں جو لٹ گئے کچھ اور ہیں
مل رہے ہیں گرچہ پہلے کی طرح
وہ مگر اب چاہتے کچھ اور ہیں

غزل
۔۔۔۔۔
پھر یوں ہوا کہ زندگی میری نہیں رہی
اس کی نہیں رہی تو کسی کی نہیں رہی
وہ ہم سفر تھا کشتی پہ مانجھی بھی تھا وہی
دریا وہی ہے میں بھی ہوں کشتی نہیں رہی
بدلا جو اس کا لہجہ تو سب کچھ بدل گیا
چاہت میں ڈھل کے جیسی تھی ویسی نہیں رہی
پیڑوں میں چھاؤں پھول میں خوشبو ہے اپنا رنگ
ویرانی بڑھ گئی ہے کہ بستی نہیں رہی
کچے مکان جیسے گھروندے سے کھیلتی
پختہ ہوا جو صحن تو مٹی نہیں رہی
اک اعتراف عشق تھا جو کر نہیں سکی
خاموش اس لیے ہوں کہ سچی نہیں رہی

غزل
۔۔۔۔۔
یادوں کے سب رنگ اڑا کر تنہا ہوں
اپنی بستی سے دور آ کر تنہا ہوں
کوئی نہیں ہے میرے جیسا چاروں اور
اپنے گرد اک بھیڑ سجا کر تنہا ہوں
جتنے لوگ ہیں اتنی ہی آوازیں ہیں
لہجوں کا طوفان اٹھا کر تنہا ہوں
روشنیوں کے عادی کیسے جانیں گے
آنکھوں میں دو دیپ جلا کر تنہا ہوں
جس منظر سے گزری تھی میں اس کے ساتھ
آج اسی منظر میں آ کر تنہا ہوں
پانی کی لہروں پر بہتی آنکھوں میں
کتنے بھولے خواب جگا کر تنہا ہوں
میرا پیارا ساتھی کب یہ جانے گا
دریا کی آغوش تک آ کر تنہا ہوں
اپنا آپ بھی کھو دینے کی خواہش میں
اس کا بھی اک نام بھلا کر تنہا ہوں