fbpx

زندگی ایک مختصر سفر تحریر:ثمرہ مصطفی

زندگی کیا ہے؟یہ زندگی ایک کتاب کی طرح ہوتی ھے، بالکل ایک بند کتاب کی طرح، جسے جب پڑھنے کے لئے کھولا جائے تو یہ نہیں پتہ ہوتا کہ کس صفحے میں ہنسی اور خوشی ملنے والی ھے اور کہاں غم اور آنسو…. لیکن دعا سے تقدیریں بدل جاتی ہیں اور ہاں کسی کے چہرے پر مت جائیں کیونکہ ہر انسان ایک بند کتاب کی مانند ھے جس کے سرورق پر کچھ اور جبکہ اندرونی صفحات پر کچھ اور تحریر ہوتا ھے۔ زندگی ایک سفر ہے جسکی منزل موت ہے۔ہر انسان کا اپنا مقصد ہوتا ہے لیکن کسی کو اپنا مقصد یاد نہیں شاید اسی وجہ سے ہر کوٸی الجھن کا شکارہے۔ہر کوٸی محنت کررہا ہے لیکن اچھے مسقبل کیلے نہیں بلکہ دوسرے  کو نیچا دکھانے کیلے اسی لیےتو محنت کرنے کا باوجود بھی کامیابی نہیں ملتی۔اور پھر ساری زندگی اپنے رب سے شکوہ کرتے رہتے ہیں ۔دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو دوسروں سے متاثر ہوتے ہیں ان جیسا بننا چاہتے ہیں لیکن ان جیسی محنت نہیں کرتے کیونکہ ہم ظاہر دیکھتے ہیں باطن نہیں۔ہم اس بات کو سوچنا ضروری ہی نہیں سمجھتے کہ جس شخص کی زندگی سے ہم متاثر ہورہے ہیں اسنے کتنی محنت کی ہوگی۔ہرانسان کی زندگی مختلف ہوتی ہے۔جو دوسرا ہے وہ اپ کبھی نہیں بن سکتے اگر زندگی میں سکون چاہتے ہیں تو اپنی زندگی کا مقصد پہچانیں۔  زندگی نے دنیا میں کسی سے وفا نہیں کی،ساری دنیا کے لوگوں کو دھوکہ دے چکی ہےاور کیا پتہ زندگی کی کس راہ پر ہماری زندگی آہستہ ہوجاۓاور موت ہمیں آن لے۔ایسی زندگی کا کیا بھروسہ جو طوفانوں میں چراغ کی طرح جلے اور موت کا انتظارکیوں نہ کریں جو آندھی کی طرح ہمارے پیچھے ہے۔رسولﷺنے فرمایا جب شیطان مردود ہوا تو اسنے کہااے پاک پروردگار تیری عزت کی قسم تیرے بندوں کو ہمیشہ بہکاتا رہوں گا جب تک  انکے جسموں میں انکی روحیں رہیں گی، اللہ پاک  نے  فرمایا مجھے قسم ہے اپنی عزت و جلال کی اور اپنے اعلیٰ رتبے کی جب تک وہ مجھ سے توبہ کرتے رہیں گے میں انہیں معاف کرتا رہوں گا۔زندگی انسان کا سب سے طویل سفراور سب سے مختصر سفر ہے یزندگی ایک خواب ہے جو خوبصورت بھی ہوسکتا ہے اور بھیانک بھی ۔زندگی ایک خوشی بھی ہے اور اذیت بھی ۔زندگی کہ کئی روپ ہیں یہ کبھی سراب ہے کبھی گلاب ہے تو کبھی عذاب ہے زندگی-اس زندگی سے انسان کو ہر طرح کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں وہ اس کی تلاش میں یہ بھول جاتا ہے کہ یہ زندگی ایک پھول کی مانند ہے جواپنی شاخ سے جدا ہوکر مرجھاجاۓ گی۔کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم زندگی کی حقیقت جانتے تو ہیں لیکن جان بوجھ کر حقیقت سے نظریں چرا لیتے ہیں اور  زندگی کی حقیقت کو ماننے  سے انکار کر دیتے ہیں لیکن حقیقت تو حقیقت ہے جب سامنے آتی ہے تو پھر ہم انسان ہی حیران و پریشان اور ہراساں  ہو جاتے ہیں اگر ہم اپنے اندر حقیقت کو جاننے کے ساتھ ساتھ ماننے کا ظرف بھی پیدا کر لیں اور زندگی کی حقیقت سے نظریں نہ چرائیں تو پھر ہر قسم کے حقائق کا بڑی بہادری و جرات مندی سے سامنا کر سکتے ہیں بجائے یہ کہ حقیقت کو سامنے پا کر  حیرانی و پریشانی کا مظاہرہ کرنے کی بجاۓ  زندگی کی حقیقت پر غور  کریں تو اس حیرانی و پریشانی کی کیفیت سے آزاد ہو سکتے ہیں-میری دعا ہے کہ خداوند تعالٰی ہماری زندگیوں میں سکون  اور  خوشیاں عطا فرمائے۔ غموں اور دکھوں سے محفوظ رکھے۔ ہماری جاٸز دلی خواہشات کو پورا فرمائے۔

@Samra_Mustafa_