fbpx

زومبیز — ریاض علی خٹک

سترہویں صدی میں جب جنوبی افریقہ کے غلاموں کو براعظم امریکہ لانے کا سلسلہ شروع ہوا تو بحری جہاز پہلے جزائر ہیٹی آتے تھے. اس جزیرے کے لوگ جب جہازوں سے ان زندہ لاشوں کو اترتے دیکھتے طویل بحری سفر اور غیر انسانی سلوک کے بعد بے ترتیب قدموں سے ایک قطار میں چلتے ان غلاموں کو وہ زومبی کہتے تھے.

فلم انڈسٹری نے بعد میں زومبی کو ایک مخلوق منوا کر اسے شہرت دی. ایسی لو بجٹ فلمیں بھی صرف زومبی دکھا کر کامیاب ہوئیں جن میں نہ کہانی تھی نہ سکرپٹ اچھا نہ ہدایتکاری کا کوئی کمال لیکن زومبی کا کردار ہی ایسا تھا کے لوگوں نے جوش و خروش سے ان کو دیکھا.

ان ڈبہ فلموں کا ہی کمال ہے کہ زومبی کو ایک عقل سے عاری قابل نفرت بے وقوف سا کردار بنا کر ایسا پیش کیا گیا کہ یہ زومبی صرف انسانی گوشت و خون کے پیاسے ہیں. یہ نہ اناج کھاتے ہیں نہ مال مویشیوں کو کچھ کہتے ہیں ان کی کوئی انسانی ضرورت ہے. بس یہ سب آدم خور ہیں.

اس پوری کہانی میں وہ کردار چھپ گئے جنہوں نے ان کو زومبی بنایا. جو ان کو ان کی آباد بستیوں سے کھینچ کر بحری جہازوں پر لائے اور زنجیروں سے باندھ دیا. ذہنی غلامی آج ظالم کو تہذیب یافتہ اور مظلوم کو زومبی کہتی ہے. زومبی جن کو مارنا پھر ثواب بنا دیا جاتا ہے. لیکن لازم نہیں ہر دفعہ سامراج کی فلم ہی ہٹ ہو کوئی دن زومبیز کا بھی آئے گا اور تصویر کا دوسرا رخ پھر دنیا دیکھے گی.