ادب کا "منصب” ہمیشہ سے فکری بالیدگی، سچائی اور انسانی جذبات کی سچّی ترجمانی رہا ہے۔ یہ وہ میدان ہے جہاں تخلیقی صلاحیت، مطالعہ، مشاہدہ اور فکری جدوجہد ہی کسی لکھاری کا اصل اثاثہ ہوتی ہے۔ لیکن آج کچھ ادارے اور افراد ادب کے نام پر پیسے کے عوض تحریریں شائع کر کے نہ صرف اس عظیم فن کی بے حرمتی کر رہے ہیں بلکہ نئے لکھنے والوں کو ایک غلط سمت میں دھکیل رہے ہیں۔ ہمیشہ سے فکری بالیدگی، سچائی اور انسانی جذبات کی سچّی ترجمانی رہا ہے۔
ادب ہمیشہ سے انسان کے باطن کی وہ زبان رہا ہے جو لفظوں میں سچائی، خلوص، درد، خواب اور سوال بُنتا ہے۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں ایک معاشرہ خود کو دیکھتا اور سمجھتا ہے۔ ادب صرف اظہار کا ذریعہ نہیں، بلکہ تہذیبی شعور، فکری بلوغت اور اجتماعی ضمیر کی بیداری کا استعارہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ سے ادب کو ایک مقدس امانت تصور کیا جاتا رہا ہے—ایسی امانت جو نہ صرف لکھنے والے کا کردار مانگتی ہے بلکہ قاری کا شعور بھی آزماتی ہے۔
مگر موجودہ دور میں اس مقدس فن کے گرد ایک ایسا بازار سج چکا ہے جس میں لفظوں کی بولی لگتی ہے، تخلیق کی قیمت طے ہوتی ہے اور ادیب کا مقام جیب کی گہرائی سے مشروط ہو چکا ہے۔ "ادب کی خدمت” کے مقدس دعوے کے ساتھ کچھ افراد اور ادارے پیسوں کے عوض تحریریں شائع کرنے کا کاروبار کر رہے ہیں۔ وہ نوآموز لکھنے والوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ صرف چند ہزار روپے دے کر ان کی تحریر کسی "ادبی مجموعے” یا "مشترکہ کتاب” کا حصہ بن سکتی ہے۔ اس جھانسے میں آ کر کئی ناپختہ قلم یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ وہ اب باقاعدہ "مصنف” بن چکے ہیں۔ گویا تخلیق، جو کبھی روح کی پکار اور شعور کی گہرائیوں سے جنم لیتی تھی، اب ایک چیک یا آن لائن ٹرانزیکشن سے پیدا ہو سکتی ہے۔یہ روش ادب کے تقدس کو محض مجروح نہیں کرتی، بلکہ اسے تماشہ بنا دیتی ہے۔ جب تحریر کے معیار کی جگہ مالی ادائیگی اہم ہو جائے تو کتاب محض صفحات کا مجموعہ بن کر رہ جاتی ہے۔ ایسے مجموعے جو بازار میں آ کر جلد ہی بھلا دیے جاتے ہیں کیونکہ ان میں کوئی فکری گیرائی، فنی چمک یا تخلیقی تڑپ نہیں ہوتی۔ یہ محض لفظوں کی سجاوٹ ہوتی ہے، جن کے پیچھے نہ کوئی تجربہ ہوتا ہے نہ کوئی پیغام۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اصل اہل قلم—جو برسوں کی ریاضت، مطالعے، مشاہدے اور فکری مکالمے سے ادب کی خدمت کرتے ہیں—ان کا مقام دھندلا پڑنے لگتا ہے۔ ان کی تحریریں ان کہی سی ہو جاتی ہیں کیونکہ بازار میں "چھپنا” ہی مقام کا معیار بن چکا ہوتا ہے۔
یہ ایک ایسا دھندہ ہے جسے ہم سب نے یا تو نظر انداز کیا یا خاموشی سے قبول کر لیا۔ سوال یہ ہے کہ اس رجحان کو روکنے کے لیے ادبی برادری، نقاد، اساتذہ، اور سنجیدہ قارئین کہاں ہیں؟ کیا ہماری ادبی انجمنیں صرف مشاعرے کروانے، پھولوں کے گلدستے دینے، اور یادگاری تصاویر بنوانے تک محدود ہو گئی ہیں؟ کیا یہ ادارے اپنی ذمہ داری محسوس نہیں کرتے کہ وہ نوآموز لکھنے والوں کو اس مکاری سے بچائیں اور انہیں تخلیق کی اصل روح سے روشناس کروائیں؟
ادب کا سفر کبھی آسان نہیں رہا۔ غالب سے لے کر فیض تک، عصمت چغتائی سے انتظار حسین تک، سب نے زندگی کی سچائیوں کو الفاظ میں ڈھالنے کے لیے کرب سہا، تنقید برداشت کی، محرومیوں کا سامنا کیا، مگر کبھی تخلیق کو بیچنے کا تصور بھی نہ کیا۔ ان کے لیے ادب ایک عہد تھا، ایک فکری جدوجہد جسے سرمایہ نہیں، صداقت چلاتی تھی۔ آج جب کوئی پیسے دے کر چھپنے کا خواب دیکھتا ہے تو وہ اس عہد سے غداری کرتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ادب کو اس کے اصل وقار کے ساتھ زندہ رکھیں۔ یہ کام صرف لکھنے والوں کا نہیں، پڑھنے والوں کا بھی ہے۔ اگر قاری صرف چمکدار سرورق، مصنف کی پروفائل تصویر، یا اشاعت کی تعداد دیکھ کر کتاب کو "اچھی” سمجھ لے گا تو پھر بازار کا راج رہے گا، اور ادب کے مقدس مینار چھوٹے ہوتے چلے جائیں گے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ہر چھپی ہوئی تحریر ادب نہیں ہوتی، اور نہ ہی ہر چھپنے والا ادیب ہوتا ہے۔
ادب میں مقام حاصل کرنے کے لیے علم، مطالعہ، مشاہدہ، محنت اور خلوص درکار ہوتا ہے۔ یہ ایک طویل، صبر آزما اور کبھی کبھار تنہا سفر ہوتا ہے۔ پیسے دے کر چھپنا اس سفر کی شارٹ کٹ نہیں، بلکہ اس سے ہٹ جانے کا راستہ ہے۔ ادب خود فریبی برداشت نہیں کرتا۔ وہ صرف انہی کو قبول کرتا ہے جو اس کی شرائط پر پورا اترتے ہیں—چاہے وہ دیر سے پہچانے جائیں، مگر اصل پہچان پائیدار ہوتی ہے۔
آخر میں، ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم ادب کو پیکیج بنا کر فروخت کرنا چاہتے ہیں یا ایک فکری میراث کے طور پر سنوارنا چاہتے ہیں۔ اگر ہم نے خاموشی اختیار کیے رکھی تو آنے والی نسلیں ادب کو ایک سنجیدہ فن کے بجائے محض چھپنے کا ذریعہ سمجھیں گی۔ ہمیں اب بھی وقت ہے کہ آواز بلند کریں،پاکستان میں ادب کے نام پر ہونے والی اس سوداگری کے خلاف قلم اٹھائیں، اور سچے تخلیق کاروں کا ساتھ دیں۔ کیونکہ ادب کو اگر زندہ رکھنا ہے تو اسے مالی لفظوں کی نہیں، فکر کی قدر دینی ہو گی۔یہی پہچان پاکستان ہے