ہم نصاب میں پاک بھارت تعلقات میں خرابی کی وجہ مسئلہ کشمیر بتاتے اور پڑھاتے ہیں اور یہ درست بھی ہے کیونکہ فی الحال اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان اور کوئی بڑا تنازعہ نہیں ہے۔

البتہ اس مسئلے کو لے کر ایک دوسرے پر دباؤ ڈالنے کے لئے دیگر تنازعات جیسے پانی کی تقسیم کا تنازعہ یا ایک دوسرے کے ملک میں ریاست سے باغی جماعتوں کی حمایت اور درپردہ ان کی امداد کرنا وغیرہ شامل ہیں ۔

دونوں ممالک مسئلہ کشمیر کی وجہ سے اپنے بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ دفاع پر خرچ کرتے ہیں اگر دونوں ممالک میں مسئلہ کشمیر کا کوئی حل نکل آئے تو یہی دفاعی بجٹ عوام کی فلاح و بہبود اور معیشت کی بہتری پر خرچ کیا جا سکتا ہے ۔

اس وجہ سے دوست ممالک کی طرف سے دونوں اطراف کے ممالک پر مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کے لئے زور دیا جاتا ہے جس کے لئے دوست ممالک سنجیدہ کوششیں بھی کرتے ہیں۔

اکثر ایسی باتیں بھی سننے میں آتیں ہیں کہ دونوں ممالک بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل کے قریب پہنچ گئے ہیں لیکن پھر دونوں اطراف جمود چھا جاتا یا کوئی ایسا واقعہ پیش آ جاتا کہ بہتری کی طرف گامزن تعلقات ایک دم انتہائی کشیدہ ہو جاتے۔

پاک بھارت مذاکرات نتیجہ خیز کیوں ثابت نہیں ہوتے،
آخر اس کی وجہ کیا ہے؟

ایک ویڈیو دیکھی جس میں نریندر مودی صاحب واضح کہہ رہے ہیں کہ میں دنیا کے کئی ممالک کے سربراہان سے ملا وہ سب اس بات پر متفق ہے کہ ہمیں آج تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ پاکستان میں طاقت کا مرکز کون ہے ۔

پاکستان میں اختیارات کس کے پاس ہیں منتخب جمہوری حکومت یا کسی اور کے پاس، تو پہلے پاکستانی آپس میں فیصلہ کر لیں کہ اختیارات کا منبع کون ہے اس کے بعد ہم ان سے نتیجہ خیز مذاکرات کر لیں گے ۔

نریندر مودی کے یہ الفاظ ہماری جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہے اور جب تک ہماری سیاسی جماعتیں ووٹ کی طاقت کے بجائے بیساکھیوں کے سہارے حکومت میں آتیں رہیں گی ہمیں ایسے مزید طمانچے پڑتے رہیں گے۔

تو ہمیں نریندر مودی کے بیان پر ناراض ہونے کی ضرورت نہیں وہ تو گجرات کا قصائی مشہور ہے ویسے بھی بےعزتی ان کی ہوتی ہے جن کی عزت ہو تو مودی کے بیان کو نظر انداز کریں اور آنے والے انتخابات کے لئے جوڑ توڑ شروع کریں ۔

Shares: