کراچی:آفتاب کو 20 ہزار روپے کی چوری کے الزام میں بیلن سے مارنے والی اورپھراس کےبعد نجی اسپتال میں گھریلو ملازم کی لاش کو چھوڑ کرجانے والی خاتون کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔

 

 

ایس ایس پی شرقی عبدالرحیم شیرازی کے مطابق دو روز قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک خاتون اپنی کار میں ایک لڑکے کو بے ہوشی کی حالت میں اسپتال لاتی ہے، اور لڑکے کی موت کی تصدیق کے بعد خاتون وہ لاش وہیں چھوڑ کر غائب ہوجاتی ہے۔

 

 

کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ لاش پھینک کرفرارہونے والی ظالم خاتون کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی.پولیس بھی حرکت میں آگئی، اور انکشاف ہوا کہ خاتون لڑکےکو بہادرآباد کے نجی اسپتال میں چھوڑ کرفرارہوئی تھی،

 

 

پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے نجی اسپتال میں گھریلو ملازم لڑکے کی لاش اسپتال میں چھوڑ کر جانے والی خاتون کو بیٹے سمیت گرفتار کرلیا ہے،

 

 

ایس ایس پی شرقی عبدالرحیم شیرازی کے مطابق گھریلو ملازم لڑکے کی لاش اسپتال منتقل کرنے والی خاتون کی شناخت ثمرین کے نام سے ہوئی، جسے گرفتار کرلیا گیا ہے، جب کہ اس کے بیٹے فرحان جاوید کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔

 

 

ایس ایس پی شرقی عبدالرحیم شیرازی کے مطابق کراچی کے 14سالہ لڑکے کی شناخت آفتاب کے نام سے ہوئی ہے، جو قاتل خاتون ثمرین کے گھر میں ملازمت کرتا تھا۔

 

 

ایس ایس پی ایسٹ نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران ماں اور بیٹے نے لڑکے پر تشدد کا اعتراف کرلیا ہے، اور بتایا ہے کہ آفتاب کو 20 ہزار روپے کی چوری کے الزام میں بیلن سے مارا، جس سے اس کی موت واقع ہوگئی۔

 

 

دوسری طرف پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ لڑکے کے ورثا سے رابطہ ہوگیاہے اوروہ اپنے مقتول کےحوالے اس خاتون کے ہاں ملازمت اورپھرقتل کے بعد اس کیس کی پیروی کرنے کے حوالے سے اپنے آئینی معاملات کو اگے بڑھانے کی کوشش میں ہیں

 

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ مزید اس کیس کے دیگرپہلووں پر چھان بین کررہی ہے کہ کیا واقعی 20 ہزارروپے چوری کا معاملہ تھا یا پھراس کے پیچھے کوئی اور بھی کہانی ہوسکتی ہے

سمجھ نہیں آتا مریم اور شہباز شریف کو ڈیلی میل پر اتنا غصہ کیوں ؟ ایسا کس نے کہہ دیا

ڈیلی میل کی خبر، پوچھنا تھا مقدمہ کیلئے شہباز شریف نے لیگل ٹیم پیدل روانہ کی، شہباز گل

شہباز شریف کو برطانوی صحافی نے ایک بار پھر کھری کھری سنا دیں

شہباز شریف نے ڈیلی میل پر مقدمہ کی بجائے آئیں، بائیں، شائیں کا خط لکھ دیا، ڈاکٹر شہباز گل

Shares: