کراچی (باغی ٹی وی رپورٹ)کورنگی کریک میں زیر زمین گیس کے اخراج سے شروع ہونے والی آگ کا معمہ 5 روز گزرنے کے باوجود حل نہ ہو سکا۔ یہ واقعہ 28 مارچ 2025 کو اس وقت سامنے آیا جب کورنگی کے سیکٹر 48 کے قریب زمین سے اچانک شعلے بلند ہونے لگے جو مبینہ طور پر زیر زمین گیس کے اخراج کی وجہ سے بھڑک اٹھے۔ ابتدائی طور پر مقامی لوگوں نے اسے معمولی واقعہ سمجھا لیکن چند گھنٹوں میں ہی آگ کی شدت بڑھ گئی اور اس نے خطرناک صورتحال اختیار کر لی۔ پانچ دن گزر جانے کے باوجود نہ تو آگ کی وجوہات کا حتمی تعین ہو سکا اور نہ ہی اسے مکمل طور پر بجھایا جا سکا، جس سے حکام اور ماہرین کے لیے یہ ایک پیچیدہ چیلنج بن گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں 28 مارچ کو صبح کے وقت کورنگی کے ایک گنجان آباد علاقے میں زمین سے دھواں اور شعلے نکلنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب قریبی پلاٹ میں پانی کی بورنگ کا کام جاری تھا۔ بورنگ کے دوران زمین سے گیس کا اخراج شروع ہوا جو ممکنہ طور پر کسی چھوٹے زیر زمین ذخیرے سے تعلق رکھتی تھی۔ گیس کے اخراج کے فوراً بعد آگ بھڑک اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے شعلے کئی فٹ بلند ہو گئے۔ فائر بریگیڈ کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور آگ بجھانے کی کوشش کی لیکن روایتی طریقوں سے اسے کنٹرول کرنا ممکن نہ ہوا۔
حکام نے فوری طور پر علاقے کو سیل کر دیا اور سیکیورٹی انتظامات سخت کر دیے تاکہ آگ کو پھیلنے سے روکا جا سکے اور عوام کو ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔ واٹر بورڈ، سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) اور دیگر متعلقہ اداروں کے ماہرین کو طلب کیا گیا تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔ تاہم ابتدائی تحقیقات کے باوجود یہ واضح نہ ہو سکا کہ گیس کا اخراج کس وجہ سے ہوا اور اس کی نوعیت کیا ہے۔
پانچ روز گزرنے کے باوجود آگ کی شدت میں کوئی خاص کمی نہیں آئی۔ رات کے وقت شعلے زیادہ واضح طور پر نظر آتے ہیں جو بعض اوقات 10 سے 15 فٹ تک بلند ہو جاتے ہیں۔ زمین سے سیاہ رنگ کا پانی بھی ابل کر باہر نکل رہا ہے جو آگ کے ساتھ مل کر ایک عجیب منظر پیش کر رہا ہے۔ یہ پانی اطراف میں پھیل رہا ہے اور اس سے بدبو بھی پھیل رہی ہے، جس سے مقامی رہائشیوں میں خوف و ہراس بڑھ گیا ہے۔ فائر فائٹرز نے واٹر کینن اور فوم کا استعمال کیا، لیکن زیر زمین گیس کے مسلسل اخراج کی وجہ سے آگ بار بار بھڑک اٹھتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گیس ممکنہ طور پر میتھین یا کوئی اور آتش گیر مادہ ہو سکتا ہے جو زمین کے اندر دباؤ میں موجود تھا۔ کچھ کا خیال ہے کہ یہ قدرتی گیس کا کوئی چھوٹا ذخیرہ ہو سکتا ہے جبکہ دیگر اسے صنعتی فضلے یا ناقص سیوریج سسٹم سے جوڑ رہے ہیں۔ نمونوں کو لیبارٹری ٹیسٹنگ کے لیے بھیجا گیا ہے، لیکن رپورٹس ابھی تک موصول نہیں ہوئیں، جس کی وجہ سے آگ بجھانے کی حکمت عملی تیار کرنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔
میئر کراچی نے 31 مارچ کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ آگ کو محدود کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے، لیکن اسے مکمل طور پر بجھانے کے لیے مزید وقت درکار ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی ایک ٹیم مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور مختلف طریقوں پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں زیر زمین گیس کے اخراج کو روکنے کے لیے سوراخ بند کرنا یا کیمیکلز کا استعمال شامل ہے۔ انہوں نے اندازہ لگایا کہ اس عمل میں ایک سے دو ہفتے لگ سکتے ہیں بشرطیکہ کوئی نیا پیچیدہ مسئلہ سامنے نہ آئے۔
کنٹونمنٹ بورڈ کورنگی کے حکام نے بھی اپنے وسائل بروئے کار لائے ہیں اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ متاثرہ علاقے سے دور رہیں۔ قریبی رہائشیوں کو عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، کیونکہ گیس کے اخراج سے دھماکے کا خطرہ بھی موجود ہے۔ تاہم، اب تک کوئی بڑا جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا، سوائے چند افراد کے معمولی زخمی ہونے کے۔
مقامی رہائشیوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے کیونکہ آگ اور دھوئیں کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری اور بدبو کا سامنا ہے۔ کچھ لوگوں نے شکایت کی کہ حکام کی جانب سے بروقت معلومات فراہم نہیں کی جا رہی، جس سے افواہوں کو ہوا مل رہی ہے۔ ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر گیس کا اخراج طویل عرصے تک جاری رہا تو اس سے مٹی اور زیر زمین پانی کے معیار پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جو زراعت اور انسانی صحت کے لیے خطرناک ہو گا۔
آخری اطلاعات آنے تک آگ جل رہی ہے اور حکام اسے بجھانے کے لیے نئے طریقوں پر کام کر رہے ہیں۔ ایک تجویز یہ ہے کہ متاثرہ جگہ پر کنکریٹ ڈال کر گیس کے اخراج کو روکا جائے، لیکن اس کے لیے درست مقام کا تعین ضروری ہے۔ دوسری طرف، کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ گیس کو کنٹرول شدہ طریقے سے جلنے دیا جائے تاکہ یہ خود ختم ہو جائے۔ فی الحال، صورتحال غیر یقینی ہے اور شہریوں کو صبر سے کام لینے کی تلقین کی جا رہی ہے۔