مزید دیکھیں

مقبول

فیشن کی دنیا میں مصنوعی اعضاء کا بڑھتا ہوا رجحان

پیرس فیشن ویک میں ڈچ ڈیزائنر دوران لینٹینک نے...

گلوکارہ ایریکا بادو کا متنازعہ لباس،فیشن یا پوشیدہ پیغام

ہفتہ کے روز، معروف گلوکارہ ایریکا بادو نے...

مریم اورنگزیب کا بھیس بدل کر جناح اور چلڈرن اسپتالوں کے دورے

لاہور: وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت...

عید پر مناہل ملک کی ایک اور "نازیبا ویڈیو”لیک

معروف پاکستانی ٹک ٹاکر مناہل ملک کی مزید نازیبا...

ایران امریکہ تنازعہ اور مینوپیولیشن!!! بلال شوکت آزاد

عالمی ماہرین عسکریات و جنگ اور سیاست کا ماننا ہے کہ اگر خطے میں دو طاقتیں یعنی امریکہ اور ایران کا مبینہ ٹکراؤ ہوتا ہے تو وہ پھیل کر جی سی سی ممالک کے دروازے تک جائے گا۔

بیشک یہ جنگ یا ٹکراؤ ہو یا نہ ہو پر ایک بات روز روشن کی طرح ان دونوں ممالک کے تمام سابقہ بیانات, اقدامات اور اشتراکات کے بعد واضح ہے کہ ٹکرانے والی دونوں ریاستوں کے اس ٹکراؤ کے پھیلنے سے ان کے دیرینہ اور مشترکہ مفادات مکمل ہونگے جیسے کہ

—چین کی خطے میں بڑھتی ہوئی مداخلت اور اقتصادی و تجارتی گرفت کمزور ہوگی۔

—سی پیک منصوبہ سبوتاژ ہوگا۔

—پاکستان کی بڑھتی ہوئی معاشی و اقتصادی اور دفاعی ترجیحات و توقعات بند گلی میں رک جائیں گی۔

—خطے میں عدم استحکام اور عدم اعتماد کی فضاء قائم ہوگی جو گریٹر اسرائیل منصوبے کی تکمیل کو سہل بنائے گی۔

—جنگ پھیلے گی تو یقیناً جنگ ذدہ ممالک کی عوام بھوک, افلاس اور تباہی کی شکار ہوگی جہاں این جی اوز کی بھرمار کرکے مائنڈ کنٹرول گیم کا مرحلہ وار آغاز کیا جائے گا۔

—خطے کے غیور اور طاقتور ممالک کی غیرت اور طاقت بالائے طاق رکھ دی جائے گی یا گروی۔

—جنگ پھیلنے کے بعد بہت ممکن ہےکہ ٹکرانے والے دونوں ممالک حریف سے حلیف بن جائیں اعلانیہ ان ممالک کے خلاف جہاں ان کی شروع کی جنگ پھیل کر پہنچے گی اور جن کی تباہی سے ان کے مفادات کی تکمیل ممکن ہوگی۔

—ہر دو صورتوں یعنی جنگ یا جنگی ڈرامے میں یمن, چین اور پاکستان بہرحال نشانے پر ہیں, تھے اور رہیں گے کہ اتنا تام جھام فقط آپس میں ایسی جنگ لڑنے کے لیئے نہیں کیا گیا جس میں کوئی فائدہ نہیں۔

اب بھی کسی کو شک ہے کہ یہ عالمی مینوپولیوشن نہیں ہورہی آجکل ایران امریکہ تنازعے کی آڑ میں تو وہ پوگو دیکھے۔

محمد نعیم شہزاد
محمد نعیم شہزادhttp://nawaiwatn.com
محمد نعیم شہزاد شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں اور لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کے استاد کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں میں نظم و نثر لکھنے میں خاص مقام رکھتے ہیں۔ ان کے موضوعات میں آفاقیت اور اجتماعی فلاح و بہبود کا عنصر نمایاں طور پر ملتا ہے۔ فری لانس بلاگر ہیں۔ باغی ٹی وی baaghitv.com @BaaghiTV اور بعض دیگر ویب سائٹس کے ساتھ بطور فری لانس بلاگ ایڈیٹر منسلک ہیں۔ ان کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ان کا پرسنل اکاؤنٹ وزٹ کریں۔ twitter.com/@UstaadGe