متحدہ عرب امارات میں مقیم ایک کیریبین نژاد خاتون نے طلاق کے لیے اپنے شوہر کے خلاف ایک ارب درہم (تقریباً 77 ارب پاکستانی روپے) کا دعویٰ دائر کر دیا ہے، جو خلیجی خطے کی تاریخ کا سب سے بڑا طلاقی مالی تصفیہ بن سکتا ہے۔
اماراتی اخبار کے مطابق مقدمہ ابوظبی سول فیملی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، اور خاتون کی نمائندگی برطانیہ کی ایک مشہور قانونی فرم کر رہی ہے۔قانونی ٹیم کے مطابق فریقین ایک مسلم کیریبین جوڑا ہے جو طویل عرصے سے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہے اور دونوں کا تعلق انتہائی دولت مند خاندانوں سے ہے۔خاتون کے وکیل کا کہنا ہے کہ مقدمے کی تفصیلات خفیہ رکھی گئی ہیں، تاہم جس خطیر رقم کا مطالبہ کیا گیا ہے وہ دونوں فریقین کی مالی حیثیت کی عکاسی کرتا ہے۔ دعوے کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ جو اثاثے اور دولت ایک ساتھ مل کر بنائی گئی ہو، اسے منصفانہ طور پر تقسیم کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابوظبی سول فیملی کورٹ مالی و غیر مالی تعاون کو تسلیم کرتی ہے اور فیصلے جدید شراکت داری کی حقیقی زندگی کی عکاسی کرتے ہیں۔یاد رہے کہ رواں برس مئی میں بھی ابوظبی سول کورٹ نے ایک غیر ملکی جوڑے کے درمیان ‘نو فالٹ’ طلاق کا فیصلہ سنایا تھا، جس میں 10 کروڑ درہم سے زائد کا مالی تصفیہ ہوا تھا، اور اسے اُس وقت خلیج کا سب سے بڑا طلاقی معاہدہ قرار دیا گیا تھا۔
ایشیا کپ 2025 ، بھارت میں ہنگامہ، بائیکاٹ کی صدائیں بلند
روسی عدالت کا زوم پر قوانین کی خلاف ورزی پر 10 لاکھ ڈالر کا جرمانہ
فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کا امدادی پیکیج، 100 ٹن سامان روانہ ہوگا
وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب ، معاشی و سیاسی صورتحال کا جائزہ