عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت واحکام ومسائل ۔۔۔ حافظ عبدالرحمٰن منہاس

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَالْفَجْرِ وَ لَیَالٍ عَشْرٍ یعنی مجھے فجر اور دس راتوں کی قسم ہے۔ امام ابن کثیر رحمہ اللہ بحوالہ بخاری فرماتے ہیں: ’’اس سے مراد ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں‘‘۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ان دس دنوں میں اللہ تعالیٰ کو عمل صالح بہت پسند ہے‘‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ کیا جہاد فی سبیل اﷲ سے بھی زیادہ یہ دن پسند ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ہاں! یہ دن جہاد فی سبیل اﷲ سے بھی بہتر ہیں سوائے اس شخص کے جو اپنے مال اور جان کو لے کر نکلے اور کسی چیز کو واپس لے کر نہ آئے‘‘ (صحیح البخاری)۔

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ان دس دنوں سے بڑھ کر اور سب سے زیادہ محبوب اللہ تعالیٰ کو کوئی اور دن نہیں ہیں لہٰذا تم ان دنوں میں کثرت سے تسبیح، تحمید اور تہلیل کیا کرو‘‘۔ ( طبرانی)۔

سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ان ایام عشرہ میں سخت ترین محنت سے عمل صالح فرماتے تھے۔ ( دارمی)۔ امام ابن حجر رحمہ اللہ کے مطابق اس عمل صالح کی وجہ غالباً یہ ہے کہ ان دنوں میں حج کا اجتماع منعقد ہوتا ہے اور حج اسلام کے اراکین میں شامل ہے۔

مستحب اعمال

کثرت سے نوافل ادا کرنا۔ نمازوں میں مکمل پابندی کرنا، کثرت سجود سے قربِ الٰہی کا حاصل کرنا۔ (صحیح مسلم)۔

نفل روزے کا اہتمام کریں۔ کیونکہ اعمال صالحہ میں روزے شامل ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ذی الحجہ کی تاریخ کو روزے رکھتے تھے یوم عاشور، محرم اور ہر مہینے تین روزے رکھنا بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا معمول تھا۔ ( ابوداؤد، مسند احمد)۔
کثرت سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنا بھی ان ایام کا ایک معروف فعل ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کے مطابق سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہم بازاروں میں جاتے تھے، خود بھی تکبیرات کہتے اور لوگ بھی تکبیریں بلند آواز سے پڑھتے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے خیمے میں بلند آواز سے تکبیریں کہتے تو اہل مسجد اس کو سن کر جواباً تکبیریں کہتے تھے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نمازوں کے بعد، گھر میں، آتے جاتے، پیدل چلتے ہوئے تکبیریں کہتے تھے۔ افسوس صد افسوس کہ ان ایام میں یہ عظیم سنت ختم ہو گئی ہےتکبیر ان الفاظ سے کہی جاتی تھی:

اَﷲُ اَکْبَر اَﷲُ اَکْبَراَﷲُ اَکْبَرکَبِیْرًا

اور

اَﷲُ اَکْبَراَﷲُ اَکْبَرلَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَ اﷲُ اَکْبَراَﷲُ اَکْبَر وَ ِﷲِ الْحَمْدُ

یومِ عرفہ کا روزہ رکھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’میں اُمید کرتا ہوں کہ یومِ عرفہ کا روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے‘‘ (صحیح مسلم) لیکن یہ روزہ حاجیوں کے لئے نہیں ہے۔

قربانی کا دن مسلمانوں کی عظیم الشان قربانی اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و شان کی نشاندہی کرتا ہے۔ تمام علماء کے مطابق سال کا افضل ترین دن قربانی کا دن ہے۔ سنن ابوداؤد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا اِرشاد ہے کہ ’’قربانی کا دن افضل ترین دن ہے‘‘۔

احکام ومسائل قربانی

قربانی کرنا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے قربانی کیا کرتے تھے۔ قربانی زندہ افراد کرتے ہیں۔ اگر کوئی اپنے فوت شدگان کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ (لیکن درج ذیل شرطوں کے ساتھ):
قربانی اصل میں زندوں کی طرف سے ہوتی ہے، ان کے ضمن میں فوت شدگان کا نام بھی لیا جا سکتا ہے۔

فوت شدگان کی قربانی ان کی وصیت کو پورا کرتے ہوئے کی جا سکتی ہے۔

تخصیص کرتے ہوئے صرف فوت شدہ افراد کی طرف سے قربانی کرنا سنت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی فوت شدہ صحابی یا اپنے رشتہ دار کی طرف سے قربانی نہیں کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ محترمہ اُمّ المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ، تین بیٹیاں اور سید الشہداء حمزہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی میں انتقال فرما گئے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی بھی ان کی طرف سے قربانی نہیں کی۔

قربانی کرنے والا ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں تک اپنے بدن کے بال نہ کاٹے۔ اُمّ المؤمنین سیدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جب عشرئہ ذوالحجہ شروع ہو جائے اور کوئی قربانی کا ارادہ کر لے تو اس کو چاہیئے کہ وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے‘‘ (صحیح مسلم) اس عمل کی حکمت یہ ہے کہ قربانی کرنے والا حج کے اعمال میں شریک ہو جاتا ہے۔

عیدالاضحی کے آداب

قارئین کرام! ہم تمہیں عیدالاضحی کی مبارک باد دیتے ہیں۔ تمام قسم کی بھلائیاں اتباع سنت اور پیروئ رسول صلی اللہ علیہ و سلم میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے رسول نے ہمیں یومِ عید اور ایام تشریق میں چند اُمور کا حکم دیا ہے:

بلند آواز میں تکبیریں کہنا، یوم عرفہ سے لے کر، ایام تشریق کے آخری دن عصر تک اور یاد رہے کہ آخری دن ویں ذوالحجہ کو ہوتا ہے۔ بازاروں، گھروں اور مساجد میں تکبیر کا ورد جاری رکھیں۔

قربانی، نماز عید کے بعد کی جاتی ہے۔ پہلے کرنا منع ہے۔ ـ (صحیح مسلم)۔ قربانی کے چار دن ہوتے ہیں۔ ایک یومِ نحر اور تین ایام تشریق (بروایت سلسلہ الصحیحہ:)۔
خوشبو لگائیں۔ غسل کریں۔ اچھے لباس پہنے لیکن اسراف اور نمود و نمائش سے پرہیز کرے۔ خواتین بھی عیدگاہ میں جا کر نمازِ عید پڑھیں۔ عید کی مبارک باد دینا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فعل سے ثابت ہے۔

عید کے دن کھیل تماشے، محفل موسیقی، رقص و سرود شراب نوشی کی محفلیں سجاتے نہ گزاریں۔ فضول خرچی اور فخر و رِیا کرنا منع ہے۔ گوشت سارا خود نہ کھائیں بلکہ غرباء کو بھی دیں۔

ایام ذوالحجہ کی ایک اہم عبادت حج، عمرہ اور مکہ و مدینہ کے مقدس مقامات کی زیارت ہے۔ ہم حج پر تفصیل سے نہیں لکھ رہے کیونکہ حج کے ارکان اور دیگر مسائل پر آج کل بیشمار چھوٹے رسائل میں موجود ہیں۔ لوگ وہاں رجوع بھی کر سکتے ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.