fbpx

2020 میں کیجانے والی ماہرہ خان کی ٹوئٹ کو خلیل الرحمٰن قمر نے نامناسب و چونکا دینے‘ والی قرار دیا

ڈرامہ نگار و لکھاری خلیل الرحمٰن قمر نے اداکارہ ماہرہ خان کی جانب سے اپنے خلاف مئی 2020 میں کی جانے والی ٹوئٹ کو ’نامناسب و چونکا دینے‘ والی قرار دیا-

باغی ٹی وی : ماہرہ خان نے مارچ 2020 میں خلیل الرحمٰن قمر کی جانب سے سماجی رہنما ماروی سرمد کے لیے ٹی وی کے پروگرام پر نامناسب زبان استعمال کیے جانے پر ٹوئٹ کی تھی جس پر شوبز شخصیات نے ڈراما نگار پر خوب تنقید کی تھی۔

خلیل الرحمٰن قمر پر تنقید کرنے والی شوبز شخصیات میں ماہرہ خان بھی شامل تھیں، جنہوں نے 4 مارچ 2020 کو ڈراما نگار کے خلاف ٹوئٹ کی تھی۔

ماہرہ خان نے خلیل الرحمٰن قمر کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اپنی ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ وہ ٹی وی اسکرین پر عورتوں کی تضحیک کرنے والے شخص کی جانب سے ماروی سرمد کے لیے کہے گئے الفاظ پر حیران ہیں۔

اداکارہ نے ڈراما نگار کے نام کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے لکھا تھا کہ وہ وہی شخص ہیں، جنہیں عورتوں کی تضحیک کے بعد ایک کے بعد ایک منصوبہ دیا جاتا ہے۔

ماہرہ خان کی مذکورہ ٹوئٹ پر ایک سال بعد اب خلیل الرحمٰن قمر نے رد عمل دیتے ہوئے اداکارہ کی ٹوئٹ پر دکھ کا اظہار کیا ہے انہوں نے کہ بہتر ہوتا کہ اداکارہ اپنے رد عمل کا اظہار ٹویٹر پر کرنے کی بجائے ان سے فون پر کرتیں۔

خلیل الرحمٰن قمر حال ہی میں اے آر وائے پر واسع چوہدری کے پروگرام ’گھبرانا منع ہے‘ میں شریک ہوئے، جہاں انہوں نے ماہرہ خان کی جانب سے کی گئی ٹوئٹ سمیت اپنے حوالے سے پھیلی ہوئی دوسری متنازع باتوں پر بھی کھل کر بات کی۔

خلیل الرحمٰن قمر کا اصرار تھا کہ وہ غلط باتیں نہیں کرتے مگر ان کی باتوں کا مطلب غلط لیا جاتا ہے اور جب وہ سمجھتے ہیں تو ان کی سخت لہجے کی وجہ سے انہیں مزید غلط سمجھا جاتا ہے۔

خلیل الرحمٰن کے مطابق وہ عورتوں کے حقوق کے بڑے علمبردار ہیں اور ان کے قریب رہنے والے افراد انہیں ٹھیک طرح سے جانتے ہیں اور ان کے حوالے سے یہ خیال غلط ہیں کہ عورتیں ان سے ڈرتی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں خلیل الرحمٰن قمر نے بتایاکہ انہیں ’فیمنسٹ‘ تحریک اور ’فیمنزم‘ کا علم نہیں تھا اور جس دن وہ ٹی وی پروگرام میں شریک ہوئے تو وہ اپنے خلاف ہونے والی باتوں کی وضاحت کے لیے گئے تھے۔

ڈراما نگار کے مطابق جب وہ پروگرام میں شریک ہوئے تو انہیں ’عورت مارچ’ کے کچھ قابل اعتراض نعروں کا علم ہوا اور انہوں نے صرف ان نعروں پر اعتراض کیا اور کہا کہ انہیں تبدیل ہونا چاہیے کیوںکہ ہم ’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ کے رہائشی ہیں، یہ ’فیمنزم جمہوریہ پاکستان‘ نہیں ہے ۔

خلیل الرحمٰن قمر کا کہنا تھا کہ فیمنسٹ تحریک جنگ عظیم اول کے بعد شروع ہوئی اور خواتین کے حقوق سمیت مرد و خواتین کے یکساں حقوق کے لیے جدوجہد شروع کی گئی۔

ڈراما و فلم نگار کے مطابق وہ عورت مارچ اور عورتوں کی تحاریک کے مخالف نہیں ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں خلیل الرحمٰن قمر کا کہنا تھا کہ انہیں بھارتی فلم ساز مہیش بھٹ سمیت ایک اور فلم ساز نے بھی فلم لکھنے کی پیش کش کی مگر انہوں نے منع کردیا۔

ڈراما نگار کے مطابق جب وہ 2006 میں بھارت گئے تو انہوں نے وہاں ٹی وی پر کوئی پاکستانی چینل نہیں دیکھا، جس کی وجہ سے انہیں برا لگا اور فلمیں لکھنے کی پیشکش مسترد کی۔

اپنے معروف ڈرامے ’میرے پاس تم ہو‘ کے مشہور ہونے والے ڈائیلاگ ’دو ٹکے کی عورت‘ پر بھی خلیل الرحمٰن قمر نے بات کی اور کہا کہ ان کے مذکورہ جملے کو غلط سمجھا اور لکھا گیا۔

پروگرام میں ڈرامے کا مذکورہ ڈائیلاگ بھی نشر کیا گیا، جس کے بعد خلیل الرحمٰن قمر نے کہا کہ ڈرامے میں ’عورت‘ کا ذکر ہی نہیں بلکہ ڈائیلاگ میں ‘لڑکی‘ کہا جا رہا ہے اور ایک مخصوص لڑکی کہا جا رہا ہے، یعنی ڈرامے کا ڈائیلاگ ہے کہ ’تم اس دو ٹکے کی لڑکی کے لیے 5 کروڑ روپے دے رہے ہو‘۔

خلیل الرحمٰن قمر کے مطابق ان کے ڈائیلاگ کا مطلب ایک خاص قسم کی مخصوص لڑکی تھی، جس سے گناہ سرزد ہوا مگر ان کے ڈائیلاگ کو ہر عورت کے لیے سمجھا گیا جو غلط ہے۔

پروگرام کے دوران خلیل الرحمٰن قمر نے کہا کہ ماروی سرمد پر تنقید کے بعد ماہرہ خان نے ان کے لیے، جو ٹوئٹ کی تھی، وہ ’نامناسب‘ اور ’چونکا دینے والی‘ تھی۔

انہوں نے کہا کہ وہ ماہرہ خان کی بہت عزت کرتے ہیں اور وہ بھی ان کی عزت کرتی ہیں مگر کیا ہی اچھا ہوتا کہ ماہرہ خان ان کے خلاف ٹوئٹ کرنے کے بجائے انہیں فون پر ہی بات کہ دیتیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.