برطانیہ کو بین الاقوامی ہجرت کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف ایک سال کے دوران انگلینڈ اور ویلز کی آبادی میں 7 لاکھ سے زائد افراد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
برطانوی دفتر برائے قومی شماریات (او این ایس) کے مطابق، 2024ء کے وسط میں انگلینڈ اور ویلز کی آبادی 61.8 ملین تک پہنچ گئی، جو 2023ء کے وسط میں 61.1 ملین تھی۔ یوں آبادی میں 706,881 افراد کا اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ عددی اضافہ 1945ء کے بعد گزشتہ 75 برسوں میں دوسرا سب سے بڑا اضافہ تصور کیا جا رہا ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق بین الاقوامی نقل مکانی اس اضافے کی بڑی وجہ ہے، خاص طور پر 2022ء اور 2023ء کے درمیانی عرصے میں اس رجحان نے حکومت کو چوکنا کر دیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، جون 2024ء تک کے 12 ماہ کے دوران انگلینڈ اور ویلز میں 11 لاکھ 42 ہزار سے زائد افراد کی آمد ہوئی، جبکہ اسی دوران 4 لاکھ 52 ہزار سے زائد افراد کی نقل مکانی کی بھی توقع ظاہر کی گئی ہے۔یہ اعداد و شمار برطانیہ میں جاری مہاجرین اور امیگریشن پالیسی پر سیاسی بحث کو مزید شدت دے سکتے ہیں۔
یوکرین کا روس کی آئل تنصیبات اور ملٹری ایئر فیلڈ پر ڈرون حملوں کا دعویٰ
ایئرپورٹس پر غیر ملکیوں کے لیے علیحدہ امیگریشن کاؤنٹرز قائم کرنے کا حکم
ایرانی صدر کا پہلا سرکاری دورہ پاکستان، شہباز شریف نے استقبال کیا