سرگودھا: انسداد دہشت گردی عدالت سرگودھا نے 9 مئی کے پرتشدد واقعات کے سلسلے میں درج جوڈیشل کمپلیکس میانوالی کیس کا فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے گرفتار ملزم اسماعیل کو دہشت گردی کے الزامات ثابت ہونے پر 25 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
فیصلے کے مطابق، عدالت نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے متعدد رہنماؤں سمیت 51 ملزمان کو مقدمے میں اشتہاری قرار دے دیا ہے۔ ان اشتہاری ملزمان میں سابق اراکین اسمبلی احمد خان بچھر، احمد چھٹہ اور بلال اعجاز شامل ہیں۔ عدالت نے ان تمام ملزمان کی گرفتاری کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔اس مقدمے میں پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر عمر ایوب خان کے پہلے ہی ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جا چکے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ ملزمان نے جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ کر کے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا اور ریاستی اداروں کی رٹ کو چیلنج کیا، جو دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔
یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کو سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پُرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے تھے، جن میں سرکاری و عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان واقعات کے بعد درجنوں مقدمات درج کیے گئے جن میں سینکڑوں کارکنان اور رہنما نامزد کیے گئے۔گزشتہ روز بھی انسداد دہشت گردی عدالت فیصل آباد نے 9 مئی سے متعلق مختلف مقدمات میں عمر ایوب، شبلی فراز، زرتاج گل، اور صاحبزادہ حامد رضا سمیت 196 افراد کو سزائیں سنائی تھیں۔ عدالتوں کی جانب سے ان مقدمات میں تیزی سے فیصلے سنائے جا رہے ہیں تاکہ ریاست مخالف سرگرمیوں کے خلاف مثال قائم کی جا سکے۔