حضرت عائشہ کے کردار سے خواتین کو کیا سبق ملتا ہے؟ رحمت ہی رحمت رمضان ٹرانسمیشن میں علما کرام کی گفتگو

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رمضان المبارک کے مہینہ میں سوشل میڈیا کی سب سے بڑی رمضان ٹرانسمیشن مبشر لقمان یوٹیوب چینل پر جاری ہے، آج سترہویں روزے کے افطار ٹرانسمیشن کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کی گئی، افطار ٹرانسمیشن میں سینئر صحافی و اینکر پرسن کے ہمراہ علماء کرام گفتگو کر رہے ہیں. آج کی ٹرانسمیشن میں حضرت عائشہ صدیقہ کے حالات زندگی اور سیرت طیبہ سمیت دیگر موضوعات پر بات چیت کی گئی

لندن سے نجم شیراز نے کہا کہ دنیا میں بہت لوگ اس ٹرانسمیشن کو دیکھتے ہیں، جس بارے میں سوال نہ کیا جانا ہو اس بارے میں سوال ، یہ صحیح نہیں ہے، جھگڑا کرنا، بغض کینہ صحیح نہیں، ہمیں بزرگوں سے سیکھنا ہے

مبشر لقمان نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کون اچھی بات کر رہا ہے، 57 اسلامی ممالک میں سود کی ڈیفی نیشن ہی نہیں ہم اسکے خلاف کیا بات کریں، جس پر مولانا حقانی نے کہا کہ ہم نیک لوگوں سے رہنمائی نہیں لیتے اور جو برائے نام مولوی ہوتے ہیں ان سے رہنمائی لینا شروع کر دیتے ہیں ہم نہیں جانتے کہ مولوی کون ہے مفتی کون ہے، عالم کون ہے، ہم گاڑی چلانے والے داڑھی والے ڈرائیور کو بھی مولوی صاحب کہتے ہیں، اس حوالہ سے ہمیں سوچنا چاہئے. ہم نے بچوں‌کی تربیت نہیں کی، نہ سکول میں نہ گھر میں اسلام سکھایا جا رہا ہے جس سے ہم دین سے ہوتے جا رہے ہیں، یہ پروگرام چلنا چاہئے تا کہ بار بار یہ میسج چلتا رہے اور لوگ اپنی تربیت اسلام کی طرف شروع کر دیں

رافعہ عروج ملک کا کہنا تھا کہ نبی کریم نے قیامت تک کے لئے ہمیں ہر چیز کے بارے میں بتا دیا جنہوں نے نبی کریم کی باتوں پر بھی پس و پیش سے کام لیا انکے بارے میں کیا کریں، نبی کریم کی زندگی ہمارے لئے اسوہ ہے، حضرت عائشہ کی زندگی سے بیوی، خاوند کے حقوق نظر آتے ہیں لیکن ہم نے انہیں کبھی فالو نہیں کیا.

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کوئی اذان نماز کے بغیر نہین،بچہ پیدا ہوتا ہے تواسکے کان میں اذان دی جاتی ہے اور نماز جنازہ کی ہوتی ہے جب وہ مرتا ہے

نجم شیراز کا کہنا تھا کہ ہم مسلمان ہیں م جب کوئی وارث دین نظر آتا ہے جیسے صحابہ کرام دین کے وارث تھے انکی زندگی کو دیکھا جانا چاہئے،جو چیزیں ایکسپرینس کر لی ہیں تربیت بہتر ہوئی ہے،ہم نے قرآن کو چھوڑا تو میڈیکل سائنس ،سوشل سسٹم و دیگر سسٹم ہر آ گئے جو قرآن میں آ گیا وہ اللہ کا حکم سب کے سامنے ہے،اللہ قرآن میں کہتا ہے کہ میں تمہیں دکھاؤن گا کہ یہاں تک کہ تم پر واضح ہو جائے کہ یہی حق ہے،جب حق بیان ہو جائے اور ہم اس پر ایمان لے آئیں تو اس میں زندگی میں بہت تبدیلی آئے گی.

جو صحابی مرد ہیں انکو رضی اللہ عنہ اور جو خواتین صحابیہ ہین انکو رضی اللہ عنہا کہنا ہے،اس کو سمجھ لیتے ہین تو شاید اس بات پر بھی اجر ملے

مولانا عبدالشکور حقانی کا کہنا تھا کہ حضرت عائشہ کے کردار سے سبق ملتا ہے کہ عورت وہ کامیاب ہو گی جو شوہر کا ساتھ دے اور سسرال والوں کو بھی راضی رکھے، لوگوں کا کام تو ہوتا ہے باتیں کرنا، بعض دفعہ بندہ جذباتی ہوتا ہے تو اپنا غبار نکالتا ہے، گھر میں ہمیں چاہئے کہ اگر شوہر یا بھائی غصے میں ہے تو اسکو جواب نہ دیں جب وہ نارمل ہو تو پھر بات کریں، باپ شادی شدہ بیٹی کو ڈانٹ سکتا ہے یہ بھی حدیث سے ثابت ہے

رافعہ عروج ملک کا کہنا تھا کہ عمل بہت اہم چیز ہے،صرف زبان سے اقرار کرنے سے کچھ نہیں ہوتا، نیکی کرنا اور نیکی کے ساتھ برائے سے بھی رکنا ہو گا، اگر نیکی کریں اور برائی سے نہ رکیں تو یہ ایمان کامل نہیں ہے،انصار یہ ہے کہ رب کے سامنے اس حال میں ہو کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور یہ سوچ لے کہ اگر نہیں تو وہ دیکھ رہا ہے

نجم شیراز کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کہا والدین سے احسان کروانہیں نہ جھڑکو، دوسری جانب سے سورۃ لقمان میں کہہ رہے ہیں کہ اگر شرک کا حکم دے رہے ہیں تو اس پر عمل نہ کرو، نجم شیراز کا کہنا تھا کہ دین کو سیکھنے اس پر بحث کرنے کی ضرورت ہے،قرآن برائے سے روکتا ہے یہ فرقان ہے.

نجم شیراز نے مغفرت کے عشرے کے مناسب سے دعا بھی سنائی،

عملی زندگی کے لئے حضرت عائشہ کے کردار سے رہنمائی لینی چاہئے،ڈاکٹر سمعیہ راحیل قاضی کی رحمت ہی رحمت ٹرانسمیشن میں گفتگو

Shares: