تجزیہ: شہزاد قریشی
بِقول شاعر: بڑی رونق تھی اس گھر میں ، یہ گھر ایسا نہیں تھا
گلے شکوے بھی رہتے تھے مگر ایسا نہیں تھا
جہاں کچھ شیریں باتیں تھیں وہیں کچھ تلخ باتیں تھیں
مگر ان تلخ باتوں کا اثر ایسا نہیں تھا
قارئین، ماضی میں بھی سیاسی گلیاروں میں شکوے شکایتیں رہتی تھیں مگر آج کی سیاست اور سیاستدانوں نے وطن عزیز میں جو انتشار پھیلا رکھا ہے ایسا ماحول کبھی نہیں دیکھا۔ نہ ختم ہونے والی تکرار نان ایشوز الزام تراشیوں اور بہانوں کے سوا سیاستدانوں کے پاس کچھ نہیں رہا۔ 24 کروڑ عوام اور ریاست کو درپیش مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ عدلیہ سمیت ریاستی ملکی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ بنانے میں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے خاشامدی ٹولوں نے حد کراس کردی یہ جانتے ہوئے کہ شخصیات کو فنا اور اداروں کو بقا حاصل ہے کونسا ایسا سیاستدان اور سیاسی جماعت بھی ہے جس نے محب وطن اداروں کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا؟ اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے عوام کی اکثریت نام نہاد جمہوری سیاست کے تماشوں سے بیزار ہوچکے ہیں۔ عوام میں یہ تاثر بنتا جارہا ہے جمہوریت کا یہ دکھاوا ایک فریب ہے۔ عوام کی اکثریت یہ سوچنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ لینڈ مافیا شوگر مافیا ادویات مافیا کالے دھن پر کھڑی سیاست اسے کچلتی رہے گی۔
عمران خان سمیت بھٹو سے لیکر نواز شریف تک سیاستدانوں نے دغا بازی کی مشکل حالات میں ساتھ چھوڑ گئے کہا جاتا ہے کہ جب جہاز ڈوبنے لگتا ہے سب سے پہلے چوہے بھاگتے ہیں۔ محرومی مایوسی اور عدم استحکام ملک کے کروڑوں عوام کا حصہ بن چکے ہیں۔ آخرکب تک؟ اب اقتدار کے لئے سیاسی گروپ بن رہے ہیں۔ ملاقاتوں ایک دوسرے کے ساتھ وعدے اقتدار میں حصہ داری نئی جماعت بنانے کی کوشش۔ پرفریب وفاداریاں اور ایک دوسرے کو یقین دہانیاں پنجاب کو فتح کرنے کے لئے آمدہ الیکشن میں ساتھ چلنے کے وعدے۔ اس سارے کھیل میں عوام اور ریاست کو درپیش مسائل نظر نہیں آرہے اقتدار اور اختیارات کے اس کھیل میں عام آدمی کے لئے مایوسی کے سوا کچھ نہیں۔








