پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے پاناما ایک حقیقت ہے جس کا آج تک جواب نہیں دیا گیا، یہ خان صاحب کا بنایا ہوا نہیں تھا۔ پاناما ایک انٹرنیشنل ایشو تھا، لیکن یہ لوگ جیل سے نکل کر انہیں اپارٹمنٹ میں رہنے لگے جس کا پاناما میں الزام تھا۔نجی ٹی وی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم سے بھی انتخابی نشان چھینا گیا تھا، قانون میں لکھا ہوا ہے کہ انٹراپارٹی الیکشن ہوں، میں نہیں چاہوں گا کہ کسی سیاسی جماعت سے انتخابی نشان چھینا جائے، کہ ن لیگ کے ساتھ مل کر حکومت نہیں بنائیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے عام انتخابات 2024ء کے بعد حکومت سازی کی پارٹی پالیسی بیان کردی۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے ن لیگ کی محبت میں نہیں پاکستان اور جمہوریت کے لیے فیصلے لیے، ہمیں ن لیگ کی ضرورت نہیں پڑے گی آزاد امیدواروں کے ساتھ ملکر حکومت بنائیں گے۔پی پی چیئرمین نے کہا کہ کس نے کہا کہ پیپلز پارٹی ن لیگ کے ساتھ اتحادی حکومت میں آئے گی، دسمبر سے خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ میں مہم چلا رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ چاروں صوبوں سے اچھا رسپانس مل رہا ہے الیکشن میں سرپرائز دیں گے، عوام کی اکثریت نواز شریف کو چوتھی مرتبہ وزیراعظم نہیں دیکھنا چاہتی۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم کبھی تشدد یا غیر جمہوری راستہ نہیں اپنایا، ہمارے فیصلے پر تنقید ہوسکتی ہے لیکن ہماری نیت غلط نہیں تھی،پی پی چیئرمین نے کہا کہ اگست میں آئی ایم ایف ڈیل بڑی مشکل سے حاصل کی، اسی وقت سیلاب اور پنجاب میں ضمنی الیکشن آرہے تھے، پی ایم ایل این کی سوچ تھی کہ سیاسی فائدہ ہوگا اور یہ ضمنی الیکشن جیت جائیں، ان کے فیصلے سے معیشت کا نقصان ہوا اور یہ ضمنی الیکشن بھی ہارے۔ان کا کہنا تھا کہ پھر آخر میں شہباز شریف وزیر خزانہ کو پاکستان میں چھوڑ کر آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے کیے، یہ ان کا سیاسی فیصلہ تھا جس کا نقصان اب ان کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

Shares: