پنجگور، ہرنائی اور خاران میں دہشت گردی کے مختلف واقعات میں کئی افراد زخمی ہوگئے، جبکہ نیشنل پارٹی کے مقامی رہنما عبدالغفور بلوچ فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہوگئے۔
پنجگور میں فائرنگ کے ایک واقعے میں نیشنل پارٹی کے مقامی رہنما عبدالغفور بلوچ کو نشانہ بنایا گیا۔ حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں عبدالغفور بلوچ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ اس واقعے نے مقامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑادی ہے اور پولیس حکام نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ عبدالغفور بلوچ کی موت کے بعد نیشنل پارٹی اور ان کے حامیوں نے مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حملہ آوروں کو جلد گرفتار کیا جائے۔
علاوہ ازیں بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں نامعلوم افراد نے سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ) کے دفتر پر دستی بم حملہ کیا اور ساتھ ہی فائرنگ کی۔ اس حملے میں پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے، تاہم ابھی تک کسی گروپ یا فرد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
خاران کے علاقے میں بھی ایک اور حملہ ہوا، جہاں ملزمان نے زیر تعمیر عمارت کے قریب دو دستی بم پھینک کر فرار ہو گئے۔ خوش قسمتی سے بموں کے پھٹنے سے جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم دھماکوں سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے دھماکے کے مقام کا محاصرہ کر لیا اور مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔
پنجگور، ہرنائی اور خاران میں پیش آنے والے ان واقعات نے بلوچستان میں جاری سیکیورٹی چیلنجز کو مزید اجاگر کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر ان حملوں میں ملوث افراد کو پکڑنے کے لیے مؤثر کارروائیاں کرے تاکہ علاقے میں امن و سکون بحال ہو سکے۔ مقامی عوام اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے حکومت سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات کرے اور عوام کی حفاظت کے لیے مزید سیکیورٹی فورسز تعینات کرے۔