اسلام آباد: ایڈیشنل رجسٹرار کے خلاف توہین عدالت کیس کا محفوظ فیصلہ کل سنایا جائے گا۔
باغی ٹی وی : جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مبنی سپریم کورٹ کا دو رکنی بینچ 23 جنوری کو محفوظ کیا گیا فیصلہ کل 27 جنوری بروز پیر کو سنائے گا-
واضح رہے کہ رہے کہ چند روز قبل عدالتی آرڈر کے باوجود بینچز اختیارات کیس سماعت کے لیے مقرر نہ ہونے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد گریڈ 21 کے افسر سپریم کورٹ میں تعینات ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذرعباس کو سپریم کورٹ نے سنگین غلطی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے عہدے سے ہٹا دیا تھا ایڈیشنل رجسٹرار ایڈمن پرویز اقبال کے دستخط سے نذر عباس او ایس ڈی بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔
پی ٹی آئی نے پورے مذاکراتی عمل کو تماشہ بنا کر رکھ دیا ہے،عرفان صدیقی
سپریم کورٹ کے اعلامیے میں رجسٹرار سپریم کورٹ کو ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل کے معاملے کو دیکھنے کی ہدایت کی گئی تھی،اعلامیے کے مطابق ایڈیشنل رجسٹرارجوڈیشل نے آئینی بینچ کا مقدمہ غلطی سے ریگولربینچ کےسامنے سماعت کیلئے مقررکیا، نتیجتاً سپریم کورٹ اورفریقین کے وقت اور وسائل کا ضیاع ہوا۔
بعد ازاں ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس نے توہین عدالت کا شوکاز نوٹس سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا سپریم کورٹ نے نذر عباس کی انٹرا کورٹ اپیل پر 6 رکنی بینچ تشکیل دے دیا جسٹس جمال خان مندو خیل کی سربراہی میں بینچ تشکیل دیا گیا جس میں جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔
لاس اینجلس کے جنگلات میں لگی آگ بجھنے کی امید
ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس نے توہین عدالت کی کارروائی پر حکم امتناع کی درخواست بھی کی سپریم کورٹ نے نذر عباس کی انٹرا کورٹ اپیل 27 جنوری بروز پیر کو سماعت کے لیے مقرر کر دی، 6 رکنی لارجر بینچ 27 جنوری دن ایک بجے انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کرے گا۔
دوسری جانب روسٹر سامنے آںے کے بعد ایڈیشنل رجسٹرار کے خلاف توہینِ عدالت کیس میں جسٹس منصور نے گزشتہ روز ججز کمیٹی کو خط لکھا،جسٹس منصور علی شاہ نے انٹرا کورٹ اپیل کے بینچ پر اعتراض کرتے ہوئے ججز کمیٹی کو خط لکھ دیا، جس میں انہوں نے جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر کی شمولیت پر اعتراض کیا-
پاکستان میں سائبر حملوں کے خدشے، نئی ایڈوائزری جاری
جسٹس منصور نے اپنے خط میں لکھا کہ 23 نومبر کو جوڈیشل کمیشن اجلاس ہوا، جس کے بعد چیف جسٹس نے اپنے چیمبر میں کمیٹی کا غیر رسمی اجلاس بلایا۔ اجلاس میں تجویز دی کہ سنیارٹی کے اعتبار سے 5 رکنی بینچ انٹراکورٹ اپیل پر بنایاجائے۔
جسٹس منصور شاہ کے مطابق تجویز دی تھی بینچ میں کہ ان ججز کو شامل نہ کیا جائے جو کمیٹی کے رکن بھی ہیں، چیف جسٹس نے کہا وہ 4 رکنی بینچ بنانا پسند کریں گے، رات 9 بج کر 33 منٹ پر میرے سیکرٹری کا واٹس ایپ میسج آیا، انہوں نے مجھ سے 6رکنی بینچ کی منظوری کا پوچھا،میں نے سیکرٹری کو بتایا کہ مجھے اس پر اعتراض ہے صبح جواب دوں گا۔
نئی امریکی انتظامیہ کی طالبان رہنماؤں کے سروں کی قیمتیں مقرر کرنے کی دھمکی
خط میں جسٹس منصور نے لکھا کہ رات 10 بج کر 28 منٹ پر سیکرٹری نے بتایا 6 رکنی بینچ بن گیا ہے اور روسٹر بھی جاری کر دیا گیا ہے، میرا بینچ پر 2 ممبران کی حد تک اعتراض ہے، بینچز اختیارات کا کیس ہم سے واپس لینے کا فیصلہ دونوں کمیٹیوں نے کیا، کمیٹیوں میں شامل ججز کے فیصلے پر ہی سوالات ہیں، کمیٹی میں شامل ارکان اپنے کیے پر خود جج نہیں بن سکتے، میرے اعتراضات کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔