پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان قرض پروگرام کی اگلی قسط کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اس مذاکرات میں آئی ایم ایف کے حکام کے ساتھ ساتھ ایف بی آر اور بی آئی ایس پی کے افسران بھی شریک ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے آئی ایم ایف کو 605 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا ہے، جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ٹیکس وصولی کے شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے کسی منی بجٹ کی ضرورت نہیں ہوگی۔اس ضمن میں بتایا گیا ہے کہ شارٹ فال پورا کرنے کے لیے عدالتوں میں زیر سماعت ٹیکس مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ حکومت نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ ٹیکس کیسز کے حوالے سے عدالتوں میں بھرپور تعاون کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے چیف جسٹس پاکستان نے بھی ٹیکس کیسز کی سماعت جلد کرانے کی درخواست منظور کرلی ہے، تاکہ ٹیکس وصولی میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے اور قرض پروگرام کی اگلی قسط جاری کی جا سکے۔

Shares: