اسلام آباد: وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ اجلاس کے دوران سینیٹر عون عباس بپی کی گرفتاری پر وضاحت پیش کی اور کہا کہ عون عباس بپی کو چنکارا ہرن کے غیر قانونی شکار پر گرفتار کیا گیا ہے۔ وزیرِ قانون کے مطابق، سینیٹر عون عباس بپی کو بہاولپور کے تھانہ پی ایس دراوڑ میں ایف آئی آر کے تحت گرفتار کیا گیا۔
وزیرِ قانون نے کہا، "سینیٹر عون عباس ہمارے کولیگ ہیں اور اپوزیشن میں ہونے کے باوجود ہم ان کی قانونی حقوق کا تحفظ کریں گے۔ ہم سینیٹر عون عباس بپی کو ہر ممکن قانون کی سہولت فراہم کریں گے۔”اس دوران سینیٹ اجلاس میں پی ٹی آئی کے اراکین ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ آج کا اجلاس یہاں ہی روک دینا چاہیے اور عون عباس بپی کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں تاکہ انہیں ایوان میں پیش کیا جا سکے۔سینیٹر منظور کاکڑ نے پوائنٹ آف آرڈر نہ ملنے پر احتجاج کیا۔ اسی دوران، سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف شبلی فراز نے کہا کہ "ہمارے پاس عون بپی کی گرفتاری کی ویڈیو موجود ہے، اور گرفتاری کے وقت ان کے گھر میں توڑ پھوڑ کی گئی تھی۔ گرفتار کرنے والوں نے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے۔”
اس پر وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے وضاحت پیش کی کہ "ہم نے پنجاب پولیس سے تفصیلات حاصل کی ہیں اور عون عباس بپی کے خلاف غیر قانونی شکار کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ وہ غیر قانونی حراست میں نہیں ہیں، بلکہ ضابطے کی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔”وزیرِ قانون نے مزید کہا کہ عون عباس بپی کی گرفتاری کے معاملے میں تمام قانونی تقاضوں کو پورا کیا گیا ہے اور وہ ہر طرح کی قانونی سہولت کے حق دار ہیں۔








