غزہ: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیل کے اس فیصلے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس کے تحت غزہ کی بجلی مکمل طور پر منقطع کی جا رہی ہے۔ تنظیم کے ترجمان نے اس اقدام کو "بلیک میلنگ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ناقابل قبول اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
حماس کے ترجمان نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا یہ فیصلہ عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ کے عوام پہلے ہی سخت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور بجلی منقطع کرنا ان پر مزید دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے۔حماس نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یہ اقدام اس لیے کر رہا ہے تاکہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے تنظیم پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو اس طرح کے ہتھکنڈوں سے باز رہنا چاہیے اور فلسطینی عوام کو مزید مشکلات میں نہ ڈالا جائے۔
حماس نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی کے معاملے پر امریکہ سے براہ راست مذاکرات جاری ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ تنظیم مسئلے کے پرامن حل کے لیے سنجیدہ ہے، لیکن اسرائیل کے جارحانہ اقدامات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔حماس نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے اس غیر انسانی فیصلے کے خلاف آواز اٹھائیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ غزہ کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے اس فیصلے سے غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ ہسپتال، پانی کی فراہمی اور دیگر بنیادی سہولیات بھی متاثر ہو سکتی ہیں، جس سے لاکھوں فلسطینیوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہوے عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ یہ صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اور اگر بجلی کی مکمل بندش عمل میں لائی گئی تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے امکانات ہی جائے گا۔








