اورماڑہ کے ساحل پر کل ایک نایاب نسل کی ڈولفن پھنس گئی تھی جسے ماہی گیروں نے فوری طور پر بچا کر واپس سمندر میں چھوڑ دیا۔
تکنیکی مشیر ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان، محمد معظم خان کے مطابق یہ ڈولفن ریسو ڈولفن کہلاتی ہے، جو پاکستان کی آبی حدود میں پائی جانے والی ایک نایاب سمندری نوع ہے۔محمد معظم خان نے بتایا کہ کل صبح اورماڑہ ساحل کے قریب یہ ڈولفن پھنس گئی تھی، جسے ماہی گیروں نے بڑی مہارت سے نکالا اور محفوظ طریقے سے دوبارہ سمندر میں چھوڑ دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ڈولفن پاکستان کے سمندری جانوروں کی 26 اقسام میں شامل ہے۔
ریسو ڈولفن کا جسم خاصا موٹا اور سر گول اور چپٹا ہوتا ہے۔ یہ ڈولفن عام طور پر معتدل اور گرم پانیوں میں پائی جاتی ہے اور اس کا قدرتی مسکن اکثر ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں سمندر کی گہرائی 1,000 فٹ تک پہنچتی ہو۔
معظم خان کے مطابق، ریسو ڈولفن 30 منٹ تک سانس روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور کم از کم 1,000 فٹ کی گہرائی تک غوطہ لگانے کی طاقت رکھتی ہے۔تاریخی طور پر پاکستان میں ریسو ڈولفن کے بارے میں صرف تین واقعات کی اطلاع ملی ہے۔ ان میں سب سے پہلا واقعہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں سامنے آیا تھا، جب اس کی موجودگی کو پہلی بار رپورٹ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد، 24 مارچ 2020 کو، ایک نر ریسو ڈولفن کو کراچی کے کلفٹن بیچ پر پایا گیا تھا۔ماہرین کے مطابق یہ واقعہ پاکستان میں سمندری حیات کی حفاظت اور ماہی گیری کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، اور اس بات کی ضرورت ہے کہ ایسے واقعات کے دوران فوری طور پر ماہرین کی مدد حاصل کی جائے تاکہ سمندری حیات کو نقصان نہ پہنچے۔