لاہور: جوہر ٹاؤن میں اسکول کے طالب علم پر تشدد، زبردستی سانس رکوانے کے الزام میں مقدمہ درج
لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں ایک نجی اسکول کے طالب علم پر مبینہ تشدد اور روزے کی حالت میں زبردستی سانس رکوانے کے سنگین واقعے پر پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ اسکول کی انتظامیہ اور چھ طلبہ کے خلاف درج کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق متاثرہ طالب علم کے والد کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ اسکول کے چھ لڑکوں، جن میں سبحان، معیز اور نوفل شامل ہیں، نے ان کے بیٹے پر تشدد کیا اور زبردستی اس کا سانس رکوایا۔ واقعہ کے وقت متاثرہ بچہ روزے سے تھا اور سانس کی رکاوٹ کے باعث وہ بے ہوش ہوگیا۔والد نے الزام عائد کیا کہ معیز نامی طالب علم نے ان کے بیٹے کو دھکا دیا جس کے باعث وہ زمین پر گرا اور اس کا دانت اور جبڑا ٹوٹ گیا۔ والد کا کہنا ہے کہ اسکول انتظامیہ نے واقعے کو دبانے کی کوشش کی اور زبردستی صلح پر مجبور کیا گیا، تاہم وہ اس صلح کو قبول نہیں کرتے۔ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسکول انتظامیہ اور مذکورہ طلبہ نے متاثرہ خاندان کو دھمکیاں دیں اور انہیں خاموش رہنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ متاثرہ بچے کا میڈیکل معائنہ کرایا گیا ہے جس میں تشدد کی تصدیق ہوئی ہے۔

متاثرہ والد نے اسکول کے منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) اور پرنسپل کو بھی واقعے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے مقدمے میں شامل کیا ہے۔ والد کا کہنا ہے کہ انہیں انصاف کی امید ہے اور وہ اس ظلم پر خاموش نہیں رہیں گے۔پولیس نے مقدمہ درج کر کے واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے، جبکہ متاثرہ بچے اور اس کے والدین کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

Shares: