جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی!
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
تاریخ گواہ ہے کہ پاک بھارت تعلقات تاریخی طور پر بھارت کی مکاری، دھوکے بازی اور بداعتمادی کی وجہ سے ایک اچھے ہمسائے کی طرح پروان نہ چڑھ سکے۔ حالیہ پاک بھارت کشیدگی نے ثابت کیا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا پاکستان مخالف ایجنڈا نہ صرف جاری ہے بلکہ خطرناک حد تک شدت اختیار کر چکا ہے۔ پہلگام کا مبینہ فالس فلیگ آپریشن، مودی کا جھوٹ بھرا قوم سے خطاب اور اس جھوٹ کی آڑ میں پاکستان کے خلاف اوچھی چالیں ایک خوفناک منصوبے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ پاکستانی قوم کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ دشمن کی "بغل میں چھری” اب محض استعارہ نہیں بلکہ ایک واضح اور فوری خطرہ ہے۔
سیزفائر کے پیچھے بھارت کی بوکھلاہٹ نمایاں ہے۔ 6 اور 7 مئی 2025 کی درمیانی شب بھارت نے پاکستانی سرزمین پر میزائل داغ کر اپنی جارحیت کا مظاہرہ کیا۔ پاک فضائیہ نے اس حملے کو ناکام بناتے ہوئے بھارت کے پانچ طیاروں، جن میں تین قیمتی رافیل شامل تھے اور متعدد ڈرونز کو تباہ کر دیا۔ امریکی صحافی نک رابرٹسن کے مطابق (10مئی 2025 CNN International) سیزفائر کی درخواست بھارت نے امریکا کے ذریعے کی تھی لیکن مودی نے 13 مئی 2025 کو قوم سے خطاب میں بے شرمی سے جھوٹ بولا کہ یہ درخواست پاکستان کی طرف سے تھی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں واضح کردیا تھا کہ سیزفائر بھارت کی عسکری اور سیاسی شکست کا نتیجہ تھا، جسے پاکستان نے خطے میں امن کے لیے قبول کیا۔ یہ جھوٹ مودی کی کمزوری ہی نہیں بلکہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔
مودی کا 13 مئی کا خطاب جھوٹ اور پروپیگنڈے کا زہریلا جال تھا۔ انہوں نے پہلگام حملے کو پاکستان سے جوڑا لیکن کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ کیا۔ بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے پارلیمنٹ میں ثبوت مانگے (14مئی Indian National Congress Press Release, 2025 ) لیکن مودی نے محض دھونس اور دھمکیوں سے کام لیا۔ ان کا دعویٰ کہ "آدھا پاکستان تباہ کر دیا” بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے کی شرمناک مثال ہے، جسے بھارتی صحافی سدھارتھ روی نے مسترد کیا (The Wire 13 مئی 2025)۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور عالمی تجزیہ کاروں نے مودی کے جھوٹ کو بے نقاب کیا لیکن خطرہ یہ ہے کہ یہ جھوٹ بھارت میں پاکستان کے خلاف نفرت کو ہوا دے رہا ہے جو ایک بڑے ان دیکھے خطرے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
پہلگام واقعہ بھارت کی فالس فلیگ حکمت عملی کا تسلسل ہے۔ پلوامہ، اڑی اور اب پہلگام ہر بار بھارت نے پاکستان پر الزامات لگائے لیکن ثبوت کبھی پیش نہ کیے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل رپورٹ (12 مئی 2025) کے مطابق پہلگام میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں تھا۔ پاکستان نے غیر جانبدار تحقیقات کی پیشکش کی، لیکن بھارت نے اسے مسترد کر دیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ حقیقت کو چھپانا چاہتا ہے۔ مودی کی یہ اوچھی چال پاکستان کو بدنام کرنے اور بھارت کے اندرونی سیاسی بحرانوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ لیکن اصل خطرہ یہ ہے کہ بھارت اس طرح کے واقعات کو جواز بنا کر پاکستان کے خلاف بڑی عسکری کارروائی کی تیاری کر رہا ہے جو خطے کو تباہی کے دہانے پر لے جا سکتا ہے۔
بی جے پی کا نظریہ چانکیہ کے فلسفے سے جڑا ہے، جو دھوکے، چالاکی اور طاقت کو سیاسی کامیابی کا زینہ سمجھتا ہے۔ چانکیہ کا مقولہ "دشمن کو تباہ کرنے کے لیے ہر حربہ جائز ہے” بی جے پی کی پاکستان پالیسی کا محور ہے۔ بابری مسجد کی شہادت، گجرات فسادات اور شہریت ترمیمی قانون (Human Rights Watch, 2020) کے ذریعے بی جے پی نے مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف نفرت کو ہوا دی۔ مودی نے ہندو قوم پرستی کو پاکستان دشمنی سے جوڑ کر زہریلا بیانیہ بنایا۔ سوشل میڈیا پر "گوبھی کی کاشت” جیسے خفیہ کوڈز کے ذریعے تشدد کی کال دی جاتی ہے (Digital Hate Watch, 2025)۔ یہ بیانیہ بھارتی معاشرے کو تقسیم کر رہا ہے اور پاکستان کے خلاف بڑی سازش کا پیش خیمہ ہے۔
سب سے بڑا خطرہ وہ ہے جو ابھی نظر نہیں آ رہا۔ بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر پاکستانیوں کے خلاف نفرت انگیز مواد میں اضافہ، سرحدوں پر بھارتی فوج کی غیر معمولی نقل و حرکت اور مودی کی خاموش سفارتی مہم پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ آر ایس ایس سے وابستہ رپورٹس (2025) میں پاکستان کو "دہشت گرد ریاست” قرار دینے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ سب اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مودی ایک بڑی عسکری یا سفارتی چال کی تیاری کر رہے ہیں، جو خطے کے امن کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ پاکستانی قوم کو اس ان دیکھے خطرے کے لیے تیار رہنا ہوگا کیونکہ مودی کا "منہ میں رام رام” ہمیشہ ایک زہریلی چھری کے ساتھ ہوتا ہے۔
مودی اور بی جے پی کا پاکستان مخالف ایجنڈا واضح طور پر خطرے کی گھنٹی ہے۔ سیزفائر کی مسلسل خلاف ورزیاں، فالس فلیگ آپریشنز، اور چانکیہ کے نام پر رچی جانے والی سازشیں، یہ سب پاکستان کے لیے ایک سنگین چیلنج ہیں۔ یہ وقت ہے کہ پاکستانی قوم متحد ہو کر اپنی مسلح افواج کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہو، اور بین الاقوامی برادری کو بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم سے آگاہ کرے۔ عالمی سطح پر بھارت کے ان مذموم ارادوں کو بے نقاب کرنا لازم ہے۔ دشمن کی ہر چال کو ناکام بنانے کے لیے ہمیں ہوشیار اور تیار رہنا ہوگا۔ یاد رکھیں یہ محض ایک انتباہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔








