وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے وزارتوں کی کارکردگی بڑھانے اور ہر شعبے کے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کیلئے اصلاحاتی عمل کی ہدایت کی ہے

وزیرِ اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں وزارت بجلی کی جانب سے گورننس کی بہتری اور اصلاحات کیلئے ماہرین پر مشتمل نظام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی. وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سات دہائیوں سے اس ملک کو جس نظام سے چلانے کی کوشش کی گئی، اس سے پاکستان کی ترقی ممکن نہیں.فرسودہ نظام کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کئے بغیر پاکستان کی معاشی ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں. پاکستان وسائل سے مالامال ہے، پاکستان کی نوجوان افرادی قوت پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ ہےباصلاحیت پاکستانی پوری دنیا میں ملک و قوم کا نام روشن کررہے ہیں. حکومت کی اولین ترجیحات میں فرسودہ نظام کو جدید، ڈیجیٹل اور مؤثر گورننس کے نظام میں تبدیل کرنا ہے.وزیر بجلی سردار اویس خان لغاری اور انکی ٹیم کی انتھک محنت تعریف کے قابل ہے. نظام کی تبدیلی کیلئے بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرین کی معاونت انتہائی ضروری ہے. وزارت بجلی کی اصلاحات، نقصانات میں کمی اور قومی خزانے کو اربوں روپے کی بچت باقی وزارتوں کیلئے قابل تقلید مثال ہے. شعبے کے ماہرین اور کنسلٹنٹس جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اصلاحات سے نئی سوچ اور گورننس کے طریقہ کار کو رائج کرنے میں معاون ہونگے.

وزیرِ اعظم نے بہترین افرادی قوت کی بھرتیوں، وزارتوں کو جدید نظام سے ہم آہنگ کرنے اور اصلاحات سے گورننس کی بہتری کی تجاویز کے حوالے سے کمیٹی کے قیام کی ہدایت کی،کمیٹی وزارت بجلی کی اصلاحات کو مد نظر رکھتے ہوئے باقی وزارتوں و اداروں کی تنظیمِ نو کے حوالے سے قابل عمل تجاویز کو حتمی شکل دیگی. اجلاس کو وزارت بجلی کی اصلاحات پر جامع بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ نیشنل الیکٹرسٹی پلان کے تحت وزارت میں 134 تزویراتی ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنایا گیا جس میں وزارت پالیسی، نگرانی اور مستقبل کی منصوبہ سازی جبکہ شعبے کے ماہرین پر مشتمل ٹیکنکل-آرم عملدرآمد، جدت اور منصوبہ بندی کررہا ہے. اجلاس کو شعبے کے ماہرین کی پروفائلز اور رائج کردہ نظام کے تحت وزارت کی موجودہ ورکنگ کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی. اجلاس میں وفاقی وزراء ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، سردار اویس خان لغاری، شزہ فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، چیف کوارڈینیٹر مشرف زیدی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

Shares: