نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور اقوام متحدہ کے درمیان تعاون پر منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے خطرات کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔
اپنے خطاب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ اسلاموفوبیا کے خلاف مل کر اقدامات اٹھانا ہوں گے اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کو ان کا حق خودارادیت دلوانا عالمی ذمہ داری ہے۔انہوں نے اجلاس کی صدارت کو پاکستان کے لیے اعزاز قرار دیا اور بتایا کہ پاکستان او آئی سی کے بانی رکن ملکوں میں شامل ہے، اور انسانی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے او آئی سی اور اقوام متحدہ کے درمیان تعاون انتہائی اہم ہے۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ کشمیری عوام کو حق خودارادیت دلوانے کے ساتھ ساتھ بھارت کے غیر قانونی قبضے کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی نے لیبیا، افغانستان، شام، یمن اور دیگر ممالک میں امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔اسحاق ڈار نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ او آئی سی کی اقوام متحدہ کے ساتھ شراکت داری مضبوط اور موثر ہو گی۔
واضح رہے کہ 23 جولائی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کی پیش کردہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کی، جس میں تمام ممالک سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ تنازعات کو پُرامن ذرائع جیسے مذاکرات، ثالثی اور عدالتی فیصلوں کے ذریعے حل کریں۔
پاکستانی ہائی کمشنر کا بنگلہ دیش ہائی کمیشن کا دورہ، طیارہ حادثے پر تعزیت
مودی کا برطانیہ کا دورہ، تجارتی معاہدے پر دستخط
مودی کا برطانیہ کا دورہ، تجارتی معاہدے پر دستخط