آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد بھارت کی جانب سے آپریشن مہادیو کے نام سے نیا ڈرامہ سامنے آ گیا
سرینگر میں بھارتی قابض فوج نے تین کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا اور دعویٰ کیا کہ خفیہ اطلاع پر کاروائی کی گئی، اس آپریشن کو آپریشن مہادیو کا نام دیا گیا،بھارتی فوج کی جانب سے آپریشن میں شہید ہونے والے افراد کی ابھی تک شناخت کا عمل مکمل نہیں ہوا تھا کہ بھارتی میڈیا نے ان افراد کو پاکستانی قرار دے دیا، کیا اب بھارت پھر کوئی فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہا ہے،بھارت کی پارلیمنٹ میںمودی سرکار سے اپوزیشن جماعتیں آپریشن سندور کی ناکامی پر جواب مانگ رہی تھیں،ایسے میں سرینگر میں جعلی مقابلے میں تین کشمیریوں کو شہید کر کے پاکستانی اور دہشت گرد قرار دینا بھارت کی نئی چال ہے.
بھارتی میڈیا یہ بھی دعویٰ کر رہا ہے کہ پہلگام ڈرامے میں ملوث افراد کو بھارتی فوج نے مارا ہے، تاہم بھارتی میڈیا کے جھوٹے دعووں کو سچ کیسے مانا جائے، ابھی تک مارے جانے والے افراد کی بھارتی سیکورٹی اداروں کی جانب سے کوئی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، اگر پہلگام حملے میں ملوث افراد مارے گئے تو انکی شناخت کو بھارت کو سامنے لانا چاہئے.
فوج کی چنار کور نے اپنے آفیشل ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر تصدیق کی ہے کہ ’’تین دہشت گردوں کو ایک شدید فائرنگ کے تبادلے میں مار دیا گیا ہے۔ آپریشن تاحال جاری ہے۔‘‘
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ آپریشن بھارتی فوج، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (CRPF) اور جموں و کشمیر پولیس کے درمیان قریبی اشتراک کا نتیجہ تھا۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق مارے گئے تینوں افراد "ہائی ویلیو” ٹارگٹ تھے اور ان کی سرگرمیوں پر طویل عرصے سے نظر رکھی جا رہی تھی۔واقعے کے بعد علاقے میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے اور ایک مکمل سرچ اور کومبنگ آپریشن جاری ہے تاکہ ممکنہ طور پر چھپے ہوئے دیگرافراد کو تلاش کیا جا سکے۔ سیکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر داخلی اور خارجی راستے بند کر دیے ہیں۔