مودی سرکار ایک مرتبہ پھر خطے کو جنگ کے دھانے پر لے جانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ بھارتی وزارتِ دفاع نے بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ کو جدید دفاعی نظاموں کے اہم آرڈرز دیے ہیں، جن میں سمندری جارحیت کے لیے جدید مواصلاتی اور میری ٹائم نظام بھی شامل ہیں۔ یہ واضح اشارہ ہے کہ مودی سرکار اپنی جنگی صلاحیتوں کو بڑھا کر علاقائی تصادم کی راہ ہموار کرنا چاہتی ہے۔
جدید ٹارگٹ سسٹمز، جیمرز اور سیکرز کی خریداری مودی کی جنگی ذہنیت کا منہ بولتا ثبوت ہے، جو نام نہاد جنگی صلاحیتوں کے باوجود آپریشن سندور میں پاکستان کی بدترین شکست کا داغ دھونے میں ناکام رہی ہے۔ بھارتی اقدامات بی جے پی اور آر ایس ایس کی انتہا پسند ہندوتوا نظریات اور جارحانہ عزائم کی عکاسی کرتے ہیں۔پاکستان نے اپنی جدید الیکٹرانک وارفیئر صلاحیتوں، کاؤنٹر جیمنگ ٹیکنالوجی، اور مضبوط کمانڈ سسٹمز کے ذریعے بھارتی مہم جوئی کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کی صلاحیت حاصل کر رکھی ہے۔ خطے میں امن کے لیے پاکستان ہر ممکن کوشش کرے گا تاکہ بھارت کے بڑھتے ہوئے جنگی جنون کو ناکام بنایا جا سکے۔
مودی سرکار کے حالیہ دفاعی معاہدے اور جدید ہتھیار محض تکنیکی ترقی نہیں بلکہ جارحانہ عسکری منصوبہ بندی کی واضح مثال ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا مودی اپنی ناقص جنگی حکمت عملی اور آپریشن سندور میں شکست کے اثرات کو ان جدید ٹیکنالوجیز کے ذریعے چھپا پائیں گے؟