جماعت اسلامی اور وفاقی حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں حق دو تحریک نے لاہور میں جاری لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اس پیشرفت کا اعلان کیا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ جماعت اسلامی کے وفد سے ہونے والی ملاقات میں 8 نکاتی مطالبات پر تفصیلی بات چیت ہوئی، جس کے بعد ایک معاہدہ طے پایا ہے۔معاہدے کے مطابق، وزیراعظم کی مشاورت سے ایک کمیٹی بنائی جائے گی، جس میں وفاقی و بلوچستان حکومت، صوبائی اپوزیشن، حق دو تحریک کے نمائندے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اراکین شامل ہوں گے۔

یہ کمیٹی بلوچستان کے عوام کے مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے قابلِ عمل تجاویز مرتب کرے گی۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا دل ہے، وہاں کے عوام محب وطن ہیں اور حکومت ان کے تمام مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرپسند عناصر کی ریاست میں کوئی گنجائش نہیں، اور ان کا مقابلہ بلوچستان کے عوام کو ساتھ ملا کر ہی ممکن ہے۔

حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمٰن نے کہا کہ 25 جولائی کو اپنے 8 نکاتی مطالبات کے ساتھ گوادر سے لانگ مارچ شروع کیا تھا، ہمارا مقصد مسائل کو پرامن انداز میں حکومت کے سامنے پیش کرنا تھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اب دھرنا ختم کیا جا رہا ہے اور تحریک اسلام آباد کی جانب نہیں بڑھے گی۔مولانا ہدایت الرحمٰن نے کہا کہ وہ آئینی اور قانونی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور امید ہے کہ بننے والی کمیٹی بلوچستان کے مسائل کو حل کرنے میں مؤثر کردار ادا کرے گی۔

جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا کہ لانگ مارچ نے پوری قوم کو پیغام دیا ہے کہ بلوچستان کے عوام ریاست کے وفادار اور اپنے آئینی حقوق کے لیے پرامن جدوجہد کرنے والے شہری ہیں۔

کالا شاہ کاکو: اسلام آباد ایکسپریس کی چھ بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 27 مسافر زخمی، ریسکیو آپریشن جاری

عمران خان کے بیٹوں کی پاکستان کے لیے ویزا درخواستیں جمع

بلوچستان میں دفعہ 144 نافذ، مختلف پابندیاں عائد

Shares: