باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بھارت سے جنگ کے بعد حکومت کی توجہ پاکستان کی معیشت بہتر کرنے پر ہے، وزیراعظم سے ملاقات میں سیاست نہیں بلکہ پاکستان پر ہی بات چیت ہوئی، ملک ریاض اور منی لانڈرنگ کرنے والوں کے لئے کوئی معافی نہیں ہے.
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ کل میری وزیراعظم شہباز شریف سے اہم ملاقات ہوئی، پہلے چند منٹ کے بعد انہوں نے وزیر اطلاعات عطا تارڑ کو بھی بلا لیا،میٹنگ ٹریڈ کے بارے ہو رہی تھی جو مشکلات ہیں اس بارے میں کہ کیسے پاکستان میں انویسمنٹ بہتر ہو سکتی ہے تو اس میں وزیراعظم نے چند اہم باتیں کیں کہ جس طرح ہماری افواج پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص میں دنیا کو دکھایا کہ کیوں وہ دنیا کی نمبر ون آرمی ہیں،پوری دنیا کہہ رہی ہے کہ اتنی بہادری،ذہانت،مہارت کبھی نہیں دیکھی،اب دنیا میں یہ پاکستان کی جنگ پڑھائی جائے گی کہ محدود وسائیل کے ساتھ کیسے جنگ جیتی ، بھارتی فوج کا بجٹ دیکھیں اور پاکستان کا ، ان کا بجٹ زیادہ، آرمی زیادہ،ایئر فورس بڑی لیکن جو حوصلے،پیشہ وارانہ مہارت ہمارے پاس ہے وہ کسی کے پاس نہیں، اس جنگ کے بعد پاکستان بہت اہم ہو گیا ہے.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ ہم اب اس کو اکانومی کے ساتھ لنک کر رہے ہیں، پاکستان کا جو امیج بن گیا ہے ناقابل تسخیر امیج،ہماری اکنامک گروتھ بھی ایشیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو گی، اگلے دو تین سالوں میں وہاں پہنچ سکتے ہیں،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میری کچھ سورسز سے بات ہوئی، کہ کسی کو چھوٹ نہیں دی جا رہی، پچھلے 18 ماہ کے اندر ملک ریاض پر الزامات ہیں کہ ایک ہزاربلین تک منی لانڈرنگ کی ہے اور اس میں غالبا کل دو ریٹائرڈ بریگیڈئر بھی گرفتار ہوئے، اگر ان لوگوں کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں تو کسی کا لحاظ نہیں ہو گا،پاکستان پر اب کوئی کمپرومائز نہیں ہے،ایک اور بڑا گروپ ہے اس پر بھی منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں اسکے کل پرسوں تک نام سامنے لے آؤں گا، جب نام سامنے آئے گا توبڑے لوگ ہل جائیں گے، میڈیا میں ایک صاحب ہیں انہوں نے بڑی کوشش کی کہ ملک ریاض اور جن صاحب کا نام لے رہا ہوں ان کے لئے آسانیاں ہو جائیں لیکن جواب ملا کہ سوچنا بھی مت.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ دن پہلے لاہور پھر فیصل آباد میں سزائیں ہوئیں، نومئی کے کیسز میں، اب بڑی تیزی سے ہر اس شخص کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے جنہوں نے ملک کو نقصان پہنچایا،میری اطلاع کے مطابق ملک ریاض اسپین میں ہیں اور مونس الہیٰ بھی وہی ہیں،
کل میری سرسری سے ملاقات ہوئی اسحاق ڈار سے،عطا تارڑ سے ملاقات میں خوشی ہوئی،انہوں نے نہ ن لیگ کی بات کی نہ پی ٹی آئی کی، نہ سیاست،نہ اپوزیشن کی،انہوں نے ایک بات کہ اوورسیز پاکستانی کتنےپازیٹو ہو چکے ہیں،اور انڈیا کا آپریشن سندور اس کے جواب میں پاکستان کا آپریشن بنیان مرصوص، اس کے بعد لوگوں نے یہ آ کر کہا کہ میں پی ٹی آئی کا سپورٹر ہوں لیکن اب میں آپ کو سپورٹ کر رہا ہوں کہ آپ نے پاکستان کی ترجمانی کی.میں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے جس طرح آپریشن کو لیڈ کیا انفارمیشن میں، کوئی فیک نیوز نہیں دی تو عطا تارڑ نے کہا کہ بالکل کریڈٹ انہیں جاتا ہے، مجھے جو کل خوشی ہوئی ہے سب سے بڑی بات ملک کی سیاست، سیاسی جماعتیں نہیں ڈسکس ہو رہی ،بلکہ پاکستان اور پاکستان کی معیشت پر بات ہو رہی ہے،