سینئراداکارہ فضیلہ قاضی نے کہا ہے کہ معاشرے میں صرف عورت سے قربانی کی توقع رکھنا ناانصافی ہے-

فضیلہ قاضی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہمارے ہاں اچھی عورت وہ سمجھی جاتی ہے جو ہررشتے کی توقعات پر پورا اترے مگرعورت کی اپنی خواہشات اورحق نظراندازکئے جاتے ہیں، ایک عورت اگراچھی ہے تواسے بھی حق حاصل ہے کہ وہ اپنے لیے اچھے مرد کے رشتے کا مطالبہ کرے۔

انہوں،نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں سب سے آسان کام کسی عورت کی کردارکشی کرنا ہے بلکہ اب مردوں کو بھی نشانہ بنایا جانے لگا ہے، طلاق یا علیحدگی کی صورت میں صرف عورت کو قصوروار ٹھہرانا غلط ہے اگرمرد باحیا عورت کی خواہش کرتے ہیں تو کیا وہ خود بھی اچھے، باکردارمرد ہیں؟ معاشرتی سوچ میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

یومِ آزادی: آئی ایس پی آر کا نیا نغمہ جاری

فضیلہ قاضی نے کہا کہ ایک اچھی عورت کی تعریف وہی ہے جو اپنے جذبات، خواب اور خواہشات کو پس پشت ڈال کر صرف دوسروں کی توقعات پر پوری اترے مگر جیسے ہی وہ اپنے حق کے لیے آواز بلند کرے تو وہ "بری عورت” بن جاتی ہے، آج بھی اگر کوئی مرد کسی عورت کو چھوڑنا چاہے تو اُسے یہ کہہ کر چھوڑ دیتا ہے کہ وہ ‘اچھی عورت’ نہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ شاید اُس عورت نے صرف اپنے حق کی بات کی ہوتی ہے۔

فضیلہ قاضی کا یہ دوٹوک اور سچائی سے بھرپور پیغام نہ صرف عورتوں کے دل کی آواز ہے بلکہ ہمارے معاشرے کے اس حصے کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے جو آج بھی عورت کو صرف برداشت، قربانی اور خاموشی کی علامت سمجھتے ہیں۔

گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کی پیشگوئی

Shares: