لنڈی کوتل (باغی ٹی وی،مہد شاہ شینواری) قبائلی ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں پانی کی شدید قلت نے عوام کو کربناک صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔ شلمان واٹر سپلائی سکیم کی تکمیل کے لیے تحریک چلانے والے رہنماؤں نے زور دیا ہے کہ اگر یہ منصوبہ جلد مکمل نہ کیا گیا تو آئندہ انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا جائے گا۔

ڈسٹرکٹ خیبر پریس کلب لنڈی کوتل (رجسٹرڈ) میں “میٹ دی پریس” سے خطاب کرتے ہوئے شریف اللہ شینواری، ربی خان آفریدی، اختر علی شینواری، جمال ناصر و دیگر رہنماؤں نے کہا کہ اکیسویں صدی میں بھی لنڈی کوتل کی خواتین دور دراز علاقوں سے سروں پر پانی لانے پر مجبور ہیں، جو حکومتی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

رہنماؤں نے یاد دلایا کہ 2024 کے الیکشن سے قبل عوامی نمائندوں نے دعویٰ کیا تھا کہ شلمان واٹر سکیم کا 60 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے، فزیبیلٹی رپورٹ اور سروے تیار ہیں، اور منصوبہ جلد پایۂ تکمیل تک پہنچے گا، مگر انتخابات کے بعد اس پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی اور بجٹ میں بھی منصوبے کے لیے ایک روپیہ تک مختص نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ لنڈی کوتل میں پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے جا چکی ہے، ٹیوب ویلز ناکام ہو رہے ہیں، اور پانی کا دیرپا حل صرف شلمان واٹر سپلائی سکیم ہے۔ اگر اس منصوبے میں رکاوٹیں ہیں تو متبادل طور پر تیراہ سے بغیر بجلی کے کم لاگت میں پانی لایا جا سکتا ہے، جس کے لیے مقامی لوگ پہلے بھی تیاری کا اظہار کر چکے ہیں۔

رہنماؤں نے یہ بھی کہا کہ ضلع خیبر کے ایم این اے، ایم پی ایز اور صوبائی وزیر سب ایک ہی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں مگر عوامی مسائل پر خاموشی معنی خیز ہے۔ وہ صرف اپنے من پسند افراد کو نوازتے ہیں، جس سے اجتماعی مسائل حل نہیں ہو پا رہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر منصوبے پر فوری عملدرآمد نہ ہوا تو عوام آنے والے انتخابات میں ووٹ کا بائیکاٹ کریں گے۔ تحریک کے رہنماؤں نے علاقہ مکینوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں اور آئندہ خاموشی اختیار نہ کریں۔

رہنماؤں نے حکومت اور منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ شلمان واٹر سپلائی سکیم کو فوری طور پر مکمل کیا جائے تاکہ لنڈی کوتل کے عوام کو باعزت اور مستقل بنیادوں پر پانی کی سہولت میسر آ سکے۔

Shares: