شانِ پاکستان
تحریر: عیشل فاطمہ(تحصیل تلہ گنگ، ضلع چکوال)
پاکستان محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک نظریہ، خواب اور عہد کا نام ہے۔ یہ وہ عظیم نعمت ہے جس کی بنیاد لا الٰہ الا اللہ پر رکھی گئی۔ اس وطن کی شان نہ صرف اس کی سرزمین، پہاڑوں اور دریاؤں میں ہے، بلکہ ان قربانیوں، خوابوں اور ارادوں میں بھی ہے جن سے یہ ملک وجود میں آیا۔ ہجرت کے قافلے، کٹے پھٹے جسم، اور لہو میں ڈوبے خواب، یہ سب پاکستان کی قیمت ہیں۔ اس وطن کو سجدوں کی حرارت، دعاؤں کی شدت اور قلم کی جرأت سے حاصل کیا گیا۔ شانِ پاکستان کا مطلب صرف ترانہ، پرچم یا قومی دنوں کی تقریبات نہیں، بلکہ اس تصور اور حقیقت کا ادراک ہے جس نے اس ملک کو اقوام عالم میں ایک الگ پہچان بخشی۔ شانِ پاکستان اس کی تہذیب میں ہے، اس کے نوجوانوں کی امنگوں میں ہے، اس کی ماؤں کی دعاؤں میں ہے، اس کے کسانوں، مزدوروں، سپاہیوں اور علما کی جدوجہد میں ہے۔ شانِ پاکستان صرف شاندار ماضی یا تابناک فتوحات کا نام نہیں، بلکہ ایک عہد ہے اُن خوابوں کا جو اس وطن کے قیام کے وقت دیکھے گئے تھے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے واقعی ان خوابوں کے مطابق آج کا پاکستان تشکیل دیا؟ یہی سوال اس تحریر کا مرکزی نکتہ ہے۔
پاکستان کی شان کا سرچشمہ سب سے پہلے اس کے نظریاتی وجود سے پھوٹتا ہے۔ دو قومی نظریہ، جس نے مسلمانوں کو ایک علیحدہ قوم کی حیثیت دی، وہی اس شان کی بنیاد بنا۔ علامہ اقبال نے جس روحانی اور تہذیبی خودی کا تصور دیا، اور قائداعظم محمد علی جناح نے جس حکمت، قانون پسندی اور بصیرت کے ساتھ اسے عملی جامہ پہنایا، وہ شانِ پاکستان کی اساس ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم نے اس نظریے کو بحیثیت قوم اپنی عملی زندگی میں جگہ دی؟ کیا ہم نے اقلیتوں کو وہی مقام دیا جو قائداعظم نے 11 اگست 1947 کی تقریر میں وعدہ کیا تھا؟ کیا عدل، مساوات، دیانت داری اور میرٹ کو وہی تقدس دیا گیا جس کا خواب تحریک پاکستان کے رہنماؤں نے دیکھا تھا؟ اگر نہیں، تو یہ ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
پاکستان کی ثقافت و تمدن، اس کی شاعری، موسیقی، زبانیں، اور روایات، اس کی اصل پہچان ہیں۔ پنجاب کے لوک گیت ہوں یا سندھ کی صوفیانہ محفلیں، بلوچستان کے غیرت مند قبائل ہوں یا خیبر پختونخوا کے رسم و رواج، یہ سب “شانِ پاکستان” کے رنگ ہیں، لیکن موجودہ دور میں ہماری تہذیب خطرات کا شکار ہے۔ مغرب زدہ میڈیا، غیر ملکی ثقافت کی یلغار، اور نئی نسل میں اپنی روایات سے لاتعلقی نے اس شان کو دیمک کی طرح چاٹنا شروع کر دیا ہے۔ جدیدیت کی آڑ میں اپنی شناخت کھونا کوئی ترقی نہیں، بلکہ یہ ایک عظیم زوال کی نشانی ہے۔
پاکستان کی سب سے بڑی دولت اور شان اس کے نوجوان ہیں، جو آبادی کا 60 فیصد ہیں۔ ان میں صلاحیت ہے، جوش ہے، ذہانت ہے۔ عبد الستار ایدھی سے لے کر ملالہ یوسف زئی، ارفع کریم سے لے کر نسیم شاہ تک، پاکستانی نوجوانوں نے دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کیا، لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بے روزگاری، تعلیم کی خراب صورتحال، اور میرٹ کی پامالی نے نوجوانوں کو یا تو مایوسی میں دھکیل دیا ہے یا بیرون ملک ہجرت پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ ملک کی شان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
افواجِ پاکستان ہماری سرحدوں کی نگہبان اور ہمارے فخر کی اصل علامت ہیں۔ چاہے وہ 1948، 1965، 1971، کارگل یا 2025 کی تازہ ترین جنگ ہو، پاک فوج نے ہمیشہ وطن کا دفاع کیا۔ پوری دنیا نے دیکھا کہ 2025 کی پاک بھارت جنگ میں جب دشمن نے جارحیت کی کوشش کی، تو پاک فوج نے جرأت، حکمت اور دلیری سے جواب دیا۔ دشمن کو پسپا کر کے ایک بار پھر پاکستان کی شان کو دوام بخشا۔
معاشی خود مختاری کسی بھی ملک کی شان کا بنیادی جز ہے۔ پاکستان کے پاس زرخیز زمینیں، معدنی ذخائر، نوجوان افرادی قوت، اور صنعتی بنیادیں موجود ہیں، جو کسی بھی ملک کے لیے ترقی کی ضمانت بن سکتی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے کرپشن، ناقص پالیسی سازی، سیاسی عدم استحکام، اور قرضوں کی معیشت نے پاکستان کی اصل شان کو دھندلا دیا ہے۔ آج اگر ہم آئی ایم ایف کی شرائط پر اپنے فیصلے کرتے ہیں، اپنی کرنسی کو مسلسل گرتے دیکھتے ہیں، تو ہمیں بحیثیت قوم یہ سوچنا ہوگا کہ ہم نے خود کو کیوں محتاج بنایا؟ اصل شان خود کفالت میں ہے، اور اس کے لیے سنجیدہ، دیانتدار اور طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
شانِ پاکستان کا ایک پہلو اس کی بین الاقوامی شناخت سے بھی جڑا ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ، او آئی سی، اور دیگر پلیٹ فارمز پر کشمیری عوام کی حمایت میں ہمیشہ جرأت مندی کا مظاہرہ کیا، افغانستان میں امن کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا، اور اسلامی دنیا کی یکجہتی کی بات کی، فلسطینی عوام، خصوصاً غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کی۔ تاہم، حالیہ برسوں میں خارجہ پالیسی میں تسلسل کی کمی، داخلی کمزوریوں، اور سفارتی ناکامیوں کی وجہ سے پاکستان کا بین الاقوامی اثر کم ہوتا جا رہا ہے۔ ایک باوقار، خوددار اور دوراندیش خارجہ پالیسی ہی ملک کی اصل شان بن سکتی ہے۔
اس لیے ہمیں صرف ماضی کے کارناموں پر فخر کرنے کی بجائے، حال کے چیلنجز کا تنقیدی ادراک بھی کرنا ہوگا۔ کرپشن، اقربا پروری، شدت پسندی، لسانی و فرقہ وارانہ منافرت، اور ادارہ جاتی ٹکراؤ جیسے مسائل نے قوم کی جڑوں کو کمزور کر دیا ہے۔ جب تک ہم ان مسائل کو دیانت داری سے نہ سمجھیں اور ان کے حل کے لیے متحد نہ ہوں، تب تک شانِ پاکستان صرف ایک نعرہ ہی رہے گا، حقیقت نہیں۔
اہلِ پاکستان خوش نصیب ہیں کہ ان کے پاس امید کی کرنیں ابھی موجود ہیں۔ دنیا گواہ ہے کہ پاکستان کے ڈاکٹرز، انجینئرز، سائنس دان، فنکار، کھلاڑی، سول سوسائٹی، اور عام شہری جب ایک عزم کے ساتھ کام کرتے ہیں، تو ناممکن کو ممکن بنا دیتے ہیں۔ کرونا وبا کے دوران ڈاکٹرز اور نرسز کی قربانیاں، زلزلوں اور سیلابوں میں نوجوانوں کی رضاکارانہ خدمات، اور کھیل کے میدان میں کامیابیاں، اور سب سے بڑھ کر حالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران سارے سیاسی و مذہبی اختلافات کو بھلا کر پوری قوم کا متحد ہونا، یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی اصل شان ابھی زندہ ہے۔
شانِ پاکستان محض ماضی کا تذکرہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل جدوجہد، خود احتسابی، اور اجتماعی بیداری کا نام ہے۔ اگر ہم اپنے تعلیمی، معاشی، سیاسی، اور ثقافتی نظام کو درست کر لیں، اپنے اداروں کو مضبوط بنائیں، میرٹ اور عدل کو فروغ دیں، اور نوجوانوں کو مثبت راستے پر ڈالیں، تو یقیناً پاکستان نہ صرف اقوام عالم میں ایک شان دار مقام حاصل کرے گا بلکہ حقیقی معنوں میں "شانِ پاکستان” کہلانے کا حقدار بھی بنے گا۔
آج ہمیں جس شدت کے ساتھ پاکستان کی تعمیرِ نو، حفاظت اور ترقی کے لیے اپنے جذبات، اپنے وسائل، حتیٰ کہ اپنی جان تک وقف کرنے کی ضرورت ہے، وہ شاید پہلے کبھی نہ تھی۔ آج ہم سب کو خود سے اور اس ملک سے یہ وعدہ کرنا ہو گا کہ وطن کے سبز ہلالی پرچم کی سربلندی، قوم کے معصوم چہروں کی خوشیاں، اور آنے والی نسلوں کا محفوظ مستقبل کرنے کے لیے ہم ہر حد سے گزر جائیں گے۔
آؤ وعدہ کریں، آج کے دن کی روشن گواہی میں ہم، پھر ارادہ کریں
جتنی یادوں کے خاکے نمایاں نہیں
جتنے ہونٹوں کے یاقوت بے آب ہیں
جتنی آنکھوں کے نیلم فروزاں نہیں
جتنے چہروں کے مرجان زرداب ہیں
جتنی سوچیں بھی مشعلِ بداماں نہیں
جتنے گل رنگ مہتاب گہنا گئے، جتنے معصوم رخسار مرجھا گئے
جتنی شمعیں بجھیں، جتنی شاخیں جلیں
سب کو خوشبو بھری زندگی بخش دیں، تازگی بخش دیں
بھر دیں سب کی رگوں میں لہو نم بہ نم
مثلِ ابرِ کرم رکھ لیں سب کا بھرم
دیدہ و دل کی بے انت شاہی میں ہم
زخم کھائیں گے حسنِ چمن کے لیے
اشک مہکائیں گے مثلِ رخسارِ گل
صرف آرائشِ پیرہن کے لیے
مسکرائیں گے رنج و غم دہر میں، اپنی ہنستی ہوئی انجمن کے لیے
طعنِ احباب، سرمایہ کج دل، بجز اغیار سہہ لیں گے، فن کے لیے
آؤ وعدہ کریں
سانس لیں گے متاعِ سخن کے لیے
جان گنوائیں گے ارضِ وطن کے لیے
دیدہ و دل کی شوریدگی کی قسم
آسمانوں سے اونچا رکھیں گے عَلم
آؤ وعدہ کریں
آج کے دن کی روشن گواہی میں ہم
یہ صرف اشعار نہیں، ایک مکمل منشورِ محبتِ وطن ہے۔ ہمارے جذبات کی ترجمان ہے۔ آئیے ہم سب اس نظم کو اپنے ضمیر کی آواز بنائیں اور پاکستان کو امن، ترقی اور عظمت کی طرف لے جانے میں اپنا کردار ادا کریں اور مل کر عہد کریں کہ ہم وطن کی خوشبو کو زندہ رکھیں گے، چمن کے زخموں پر مرہم رکھیں گے، اور اپنے فن، فکر، قلم، ہنر اور کردار کے ذریعے شانِ پاکستان کو دنیا میں سر بلند کریں گے۔ کیونکہ پاکستان صرف ایک زمین کا نام نہیں، یہ ہماری پہچان، ایمان اور قربانیوں کی روشن دلیل ہے۔
نوٹ: کالم نگار نے اس کالم میں شامل نظم کا ریفرنس نہیں دیا کہ یہ نظم کہاں سے لی گی ہے اورکس کی تخلیق ہے ؟