شانِ پاکستان
تحریر: جواد اکبر
دنیا میں ہر قوم کی ایک پہچان، ایک وقار اور ایک منفرد شان ہوتی ہے۔ یہ شان کسی فرد، کسی علامت یا کسی نظریے سے جنم لیتی ہے، جو قوم کے اجتماعی شعور، تاریخ، ثقافت، قربانیوں اور کامیابیوں کا عکاس ہوتی ہے۔ جب ہم پاکستان کی بات کرتے ہیں تو ہمارے پیشِ نظر صرف ایک جغرافیہ نہیں ہوتا بلکہ ایک خواب، ایک جدوجہد، ایک نظریہ اور ایک عظیم حقیقت ہوتی ہے جس نے لاکھوں قربانیوں کی بدولت جنم لیا۔ پاکستان کا قیام محض زمینی حدود کی تشکیل نہیں تھا، بلکہ یہ ایک نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا۔ یہ نظریہ "لا الہ الا اللہ” کے گرد گھومتا ہے، جو مسلمانوں کو ایک الگ شناخت، ثقافت، عبادات اور طرزِ زندگی کے ساتھ زندہ رہنے کا حق دیتا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ اقبالؒ جیسے باوقار رہنماوں کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے ایک الگ وطن کے لیے عظیم قربانیاں دیں۔ یہ وطن صرف ایک پناہ گاہ نہیں، بلکہ اسلامی اقدار، عدل، مساوات، حریتِ فکر اور معاشرتی انصاف کی علامت کے طور پر قائم ہوا۔
شانِ پاکستان کی سب سے بڑی بنیاد وہ قربانیاں ہیں جن پر اس مملکتِ خداداد کی عمارت کھڑی ہے۔ تحریکِ پاکستان کے دوران لاکھوں مسلمان شہید ہوئے، ہزاروں خواتین کی عصمتیں پامال ہوئیں، کروڑوں افراد نے ہجرت کی، اپنے گھربار، زمینیں، مال و دولت سب کچھ قربان کر دیا، صرف اس لیے کہ وہ آزاد فضاؤں میں اپنے دین، اپنی تہذیب اور اپنی اقدار کے ساتھ زندہ رہ سکیں۔ یہ قربانیاں ہی ہیں جو پاکستان کو شان عطا کرتی ہیں۔ ہر سال 14 اگست کو جب ہم یومِ آزادی مناتے ہیں تو ہمیں ان شہیدوں، مہاجروں اور بزرگوں کو یاد کرنا چاہیے جن کی قربانیوں کے بغیر ہم آج آزاد نہیں ہوتے۔
پاکستان کی شان کو بلند رکھنے میں افواجِ پاکستان کا کردار نہایت اہم ہے۔ دشمن کی جارحیت ہو، دہشت گردی کا ناسور ہو یا قدرتی آفات، ہماری بہادر افواج ہر محاذ پر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہوتی ہیں۔ کارگل، سیاچن، 1965 اور 1971 کی جنگیں ہوں یا اندرونی خطرات، افواجِ پاکستان نے ہمیشہ ملک کا دفاع کیا اور قومی سلامتی کو یقینی بنایا۔ یہ نہ صرف جنگی مہارت میں ماہر ہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں بھی ان کی خدمات دنیا بھر میں تسلیم کی جاتی ہیں، جو ہماری قومی عزت اور شان کا روشن پہلو ہے۔
پاکستان کے سائنسدانوں، ماہرینِ تعلیم، محققین اور انجینئرز نے بھی ملک کی شان میں اضافہ کیا ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام، جو نوبل انعام یافتہ ہیں، اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا، اس ملک کی علمی شان کے درخشندہ ستارے ہیں۔ پاکستان نے 1998 میں ایٹمی دھماکے کر کے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ہم نہ صرف امن پسند قوم ہیں بلکہ اپنے دفاع سے غافل بھی نہیں۔
یہ شان صرف دفاعی یا سائنسی طاقت سے نہیں بلکہ پاکستان کی تہذیب و ثقافت، ادب و شعر، موسیقی و مصوری اور دستکاری و روایت سے بھی جھلکتی ہے۔ علامہ اقبال، فیض احمد فیض، احمد فراز، بانو قدسیہ، اشفاق احمد، اور عمیرہ احمد جیسے ادیب اور شاعر قوم کی فکری و روحانی پہچان ہیں، جبکہ صوفیاء کرام کی تعلیمات نے پاکستان کی روحانی بنیادوں کو تقویت دی ہے۔ لوک موسیقی، قوالی، کلاسیکی رقص، ٹرک آرٹ، اور مختلف لسانی و علاقائی ثقافتیں دنیا بھر میں ہماری تہذیبی شناخت بن چکی ہیں۔
پاکستان کی سرزمین اللّہ تعالیٰ کی بے پناہ نعمتوں سے مالا مال ہے۔ شمالی علاقے، وادی ہنزہ، سوات، گلگت بلتستان، کشمیر، چترال اور مری کو دیکھ کر انسان قدرت کی صناعی پر عش عش کر اٹھتا ہے۔ بحرِ عرب سے لے کر قراقرم تک پھیلا یہ ملک موسم، معدنیات، زراعت اور سیاحت کے وسائل سے مالا مال ہے۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو، جھیل سیف الملوک، وادی کاغان اور صحرائے چولستان جیسے مقامات نہ صرف پاکستان کی شان ہیں بلکہ سیاحتی دنیا کے خزانوں میں شمار ہوتے ہیں۔
اس شان کو قائم رکھنے میں سب سے اہم کردار نوجوان نسل کا ہے۔ پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے جو قوم کی اصل طاقت ہیں۔ آج کے نوجوان تعلیم، ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل میڈیا، کاروبار اور فنونِ لطیفہ میں عالمی سطح پر اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔ ارفع کریم، ملالہ یوسفزئی، علی معین نوازش، ہارون طارق اور دیگر کئی نوجوان عالمی سطح پر پاکستان کا پرچم بلند کر چکے ہیں۔
پاکستانی قوم کا ایک اور روشن پہلو ان کی انسان دوستی، ہمدردی اور جذبۂ خدمت ہے۔ قدرتی آفات، سیلاب یا زلزلے ہوں یا کوئی اور بحران، پاکستانی قوم ہمیشہ ایک جسم کی طرح متحد ہو کر ایک دوسرے کی مدد کرتی ہے۔ ایدھی، چھیپا، سیلانی، الخدمت اور دیگر کئی ادارے دنیا کے سب سے بڑے فلاحی اداروں میں شمار ہوتے ہیں۔ پاکستان وہ ملک ہے جس کی شان دراصل ہماری تاریخ، ہمارے نظریے، ہماری قربانیوں، ہماری افواج، ہمارے علما و دانشوروں، ہماری ثقافت، ہماری صلاحیتوں اور ہمارے جذبے کا مجموعہ ہے۔
اگر ہمیں واقعی "پاکستانی” ہونے پر فخر ہے تو ہمیں ہر شعبۂ زندگی میں دیانت، اخلاص، محنت اور اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اپنے قائدین کے سنہرے اصولوں پر چل کر ہم پاکستان کو ایک باوقار، باعزت، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بنا سکتے ہیں، کیونکہ پاکستان ہے تو ہم ہیں، اور پاکستان کی شان ہی ہماری پہچان ہے۔